24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

'اصغر خان کیس کا فیصلہ من و عن تسلیم کرتے ہیں'

shahbaz-sharif-670
وزیراعٰلی پنجاب شہباز شریف۔ —فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہیں۔

ہفتے کے روز ضلع چکوال کی تحصیل کلر کہار  کیڈٹ کالج میں سالانہ اسپورٹس ڈے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ صدر آصف علی زرادری نے بھی انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) سے پچاس کروڑ روپے لیے تھے، ان کا بھی حساب ہونا چاہیے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ملک کو توانائی بحران سمیت کئی چیلجنز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کا تعلیمی نظام عالمی معیار کا ہوگیا ہے۔

 اس موقع پر وزیر اعلٰی پنجاب نے لڑکیوں کے لیے دانش اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر میں مزید دو لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے

آزادی مارچ، پی ٹی آئی کا حکمت عملی پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک رسمی طور پر پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ایک فراموش کردہ یادگار اپنی بحالی کی منتظر

ملتان میں حضرت سلطان باہوؒ کے ایک عقیدت مند بزرگ حضرت دلیر باہوؒ کے مزار کی بحالی کے لیے فنڈزکا انتظار ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Talib Hussain
20 اکتوبر, 2012 17:48
Laptop distribution is good to obtain a good survey report. weldone shehbaz.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-