21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

تحقیقات، عبوری سیٹ اپ سے پہلے مکمل ہوں گی، کائرہ

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات ، قمر زمان کائرہ ہفتے کے گورنر ہاوس لاہور میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کررہے ہیں۔ اے پی پی تصویر

لاہور: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے حکومت کے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ " شریف برادران " سمیت مہران بینک اسکینڈل سے فائدہ حاصل کرنے والوں کیخلاف ممکنہ طور پر کم سے کم وقت میں تحقیقات مکمل کرے گی۔ اسطرح اگرشریف برادران کی جانب سے  آئی ایس آئی سے رقم لینے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ان کے سر پر عام انتخابات سے قبل نااہلی کی تلواربھی لٹکی ہوئی ہے۔

کائرہ نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی ڈیڈلائن نہیں دی گئی ہے تاہم حکومت اس معاملے کی مختصرترین وقت میں تفتیش مکمل کرے گی ممکنہ طورپر نگراں سیٹ اپ سے پہلے۔

پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اٹھارہ مارچ دوہزار تیرہ کو ختم ہو جائے گی۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ، (ایف آئی اے) کے ایک سینیئر افسر نے ڈان اخبار کو بتایا کہ اگر حکومت کراچی ، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹیم بناتی ہے تو ان سیاستدانوں کیخلاف تحقیقات دو ماہ میں مکمل کی جا سکتی ہیں جنہوں نے انیس سو نوے کے انتخابات میں رقم کے بدلے بے نظیربھٹو حکومت کو اقتدار میں آنے سے روکا تھا۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہ تفتیش کوئی آسان کام نہیں ہوگی کیونکہ اس میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جنرل اسد درانی کے حلف ناموں کے تحت سابق وزیرِ اعظم نوازشریف نے پینتیس لاکھ، میر افضل خان نے ایک کروڑ، لیفٹننٹ جنرل رفاقت نے چھپن لاکھ کی رقم لی تھی اور اسے صحافیوں میں بھی تقسیم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب عابدہ حسین نے دس لاکھ، جماعتِ اسلامی نے پچاس لاکھ، الطاف حسین قریشی نے پانچ لاکھ، غلام مصطفیٰ جتوئی نے پچاس لاکھ، جام صادق نے پچاس لاکھ، جونیجو نے ڈھائی لاکھ، پیرپگارا نے بیس لاکھ، مولانا صلاح الدین نے تین لاکھ، نواب بگٹی کے داماد، ہمایوں مری نے پندرہ لاکھ، جمالی نے چالیس لاکھ، کاکڑ نے دس لاکھ، کے بلوچ نے پانچ لاکھ، جام یوسف نے ساڑھے سات لاکھ، بزنجو نے پانچ لاکھ، نادر مینگل نے دس لاکھ، ملک معراج خالد نے پانچ لاکھ، حفیظ پیرزادہ نے بیس لاکھ، مصطفیٰ کھر نے بیس لاکھ اور سرور چیمہ نے پانچ لاکھ کی رقم وصول کی تھی۔

گورنر ہاوس میں اخباری نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کائرہ نے کہا کہ پی پی پی کا موقف درست ہے کیونکہ وہ ایس کیس میں نہ ہی مدعی ہے اور نہ منصف۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنے رہنماوں کو بچانے کیلئے حربوں پر حیرت کا اظہار کیا۔

کائرہ نے کہا کہ نون لیگ کے رہنما پی پی پی پر کیس کے دو اہم ذمے داروں،  جنرل اسلم بیگ کو ایوارڈ دینے اور جنرل اسد درانی کو سفیر بنانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں لیکن معاملے میں شریف برادران کے کردار پرپردہ ڈالنے کے لئے حقائق کو مسخ کررہے ہیں۔ آج کورٹ کا فیصلہ سب کے سامنے ہے اور ہمیں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ایک مرتبہ تفتیش شروع ہوگی ، پاکستان مسلم لیگ نون اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرے گی، لیکن پی پی پی کسی کو ہدف بنانے پر یقین نہیں رکھتی۔ اور سب سے بڑھ کر کورٹ اس معاملے کی نگرانی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ ایجنسیوں کی پیداوار کون ہے اور ایف آئی اے اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) اس معاملے کی تحقیقات کریں گی۔

انہوں نے تحقیقات پر مسلم لیگ نون سے کسی بھی قسم کی بات چیت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساری کارروائی شفاف ہوگی اور اس معاملے پر نون لیگ سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

کائرہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ جلد منظرِ عام پر لائے گی۔

اس حصے سے مزید

سابق چیئرمین پیمرا کا برطرفی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

چوہدری رشید کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤکل کی برطرفی کے خلاف آج پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

آئی ٹی کی وزارت آئی ٹی ماہرین کی متحمل نہیں

وزارت کے پاس آئی ٹی ماہرین کی تنخواہوں کے لیے فنڈز نہیں، چنانچہ اسکول ٹیچرز اور فاریسٹ اہلکاروں سے کام چلایا جارہا ہے۔

وزیرِ اعظم نے حامد میر حملے کی جوڈیشل تحقیقات کا حکم دیدیا

کمیشن کیلئے سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی، قاتلوں کی اطلاع پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

نریندر مودی اور نواز شریف ساتھ ساتھ

اگر بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو 1998 کی طرح آج بھی پاکستان میں نواز شریف کی ہی حکومت ہوگی۔

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔