03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

تحقیقات، عبوری سیٹ اپ سے پہلے مکمل ہوں گی، کائرہ

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات ، قمر زمان کائرہ ہفتے کے گورنر ہاوس لاہور میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کررہے ہیں۔ اے پی پی تصویر

لاہور: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے حکومت کے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ " شریف برادران " سمیت مہران بینک اسکینڈل سے فائدہ حاصل کرنے والوں کیخلاف ممکنہ طور پر کم سے کم وقت میں تحقیقات مکمل کرے گی۔ اسطرح اگرشریف برادران کی جانب سے  آئی ایس آئی سے رقم لینے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ان کے سر پر عام انتخابات سے قبل نااہلی کی تلواربھی لٹکی ہوئی ہے۔

کائرہ نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی ڈیڈلائن نہیں دی گئی ہے تاہم حکومت اس معاملے کی مختصرترین وقت میں تفتیش مکمل کرے گی ممکنہ طورپر نگراں سیٹ اپ سے پہلے۔

پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اٹھارہ مارچ دوہزار تیرہ کو ختم ہو جائے گی۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ، (ایف آئی اے) کے ایک سینیئر افسر نے ڈان اخبار کو بتایا کہ اگر حکومت کراچی ، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹیم بناتی ہے تو ان سیاستدانوں کیخلاف تحقیقات دو ماہ میں مکمل کی جا سکتی ہیں جنہوں نے انیس سو نوے کے انتخابات میں رقم کے بدلے بے نظیربھٹو حکومت کو اقتدار میں آنے سے روکا تھا۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہ تفتیش کوئی آسان کام نہیں ہوگی کیونکہ اس میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جنرل اسد درانی کے حلف ناموں کے تحت سابق وزیرِ اعظم نوازشریف نے پینتیس لاکھ، میر افضل خان نے ایک کروڑ، لیفٹننٹ جنرل رفاقت نے چھپن لاکھ کی رقم لی تھی اور اسے صحافیوں میں بھی تقسیم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب عابدہ حسین نے دس لاکھ، جماعتِ اسلامی نے پچاس لاکھ، الطاف حسین قریشی نے پانچ لاکھ، غلام مصطفیٰ جتوئی نے پچاس لاکھ، جام صادق نے پچاس لاکھ، جونیجو نے ڈھائی لاکھ، پیرپگارا نے بیس لاکھ، مولانا صلاح الدین نے تین لاکھ، نواب بگٹی کے داماد، ہمایوں مری نے پندرہ لاکھ، جمالی نے چالیس لاکھ، کاکڑ نے دس لاکھ، کے بلوچ نے پانچ لاکھ، جام یوسف نے ساڑھے سات لاکھ، بزنجو نے پانچ لاکھ، نادر مینگل نے دس لاکھ، ملک معراج خالد نے پانچ لاکھ، حفیظ پیرزادہ نے بیس لاکھ، مصطفیٰ کھر نے بیس لاکھ اور سرور چیمہ نے پانچ لاکھ کی رقم وصول کی تھی۔

گورنر ہاوس میں اخباری نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کائرہ نے کہا کہ پی پی پی کا موقف درست ہے کیونکہ وہ ایس کیس میں نہ ہی مدعی ہے اور نہ منصف۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنے رہنماوں کو بچانے کیلئے حربوں پر حیرت کا اظہار کیا۔

کائرہ نے کہا کہ نون لیگ کے رہنما پی پی پی پر کیس کے دو اہم ذمے داروں،  جنرل اسلم بیگ کو ایوارڈ دینے اور جنرل اسد درانی کو سفیر بنانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں لیکن معاملے میں شریف برادران کے کردار پرپردہ ڈالنے کے لئے حقائق کو مسخ کررہے ہیں۔ آج کورٹ کا فیصلہ سب کے سامنے ہے اور ہمیں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ایک مرتبہ تفتیش شروع ہوگی ، پاکستان مسلم لیگ نون اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرے گی، لیکن پی پی پی کسی کو ہدف بنانے پر یقین نہیں رکھتی۔ اور سب سے بڑھ کر کورٹ اس معاملے کی نگرانی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ ایجنسیوں کی پیداوار کون ہے اور ایف آئی اے اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) اس معاملے کی تحقیقات کریں گی۔

انہوں نے تحقیقات پر مسلم لیگ نون سے کسی بھی قسم کی بات چیت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساری کارروائی شفاف ہوگی اور اس معاملے پر نون لیگ سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

کائرہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ جلد منظرِ عام پر لائے گی۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔