02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

شدت پسندوں سے جنگ کے لئے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری۔ فائل تصویر

اسلام آباد: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں سے جنگ کے لئے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ ہمیں ان ( عسکریت پسندوں) کی جوابی کارروائی نے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لینا چاہئے۔

اسلام آباد میں منعقدہ میڈیا، عسکریت پسندی اور شفاف انتخابات کے موضوع پر ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما ) کے تحت ہونے والی کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ لڑی جائے گی۔

' ہم اس امر پر متفق ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن کیا ہم پلٹ کر آنے والے وار کیلئے تیار بھی ہیں؟ صدر نے سوال کیا۔

اگر ہم خود اپنے درمیان مفاہمت پیدا نہیں کرسکے تو ہم دیگر ممالک کے ساتھ بھی ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا۔

صدر زرداری نے کہا کہ حالیہ صورتحال میں یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ  اتفاقِ رائے کی بات کرنا بے کار ہے۔

زرداری نے کہا کہ جب (دہشگردی کیخلاف) جنگ چھڑی تو کئی ممالک نے آگے بڑھ کر اپنی مدد کے وعدے کئے لیکن صرف چین ایسا ملک تھا جس نے  اس جنگ میں حقیقی معنوں میں پاکستان کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک صدر کی حیثیت سےمیں قوم کے سامنے جوابدہ' ہوں اور انہوں نے ساتھ ہی میڈیا سے درخواست کی کہ وہ تصویر کے دونوں رخ دکھائے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مالی بحران آیا ہوا ہے۔

انہوں نے نے ملالئے یوسفزئی سمیت دہشتگردی سے متاثر ہونے والے ہر بچے کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس پر عوامی ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی وکیل ان کا کیس لڑنے کیلئے تیار نہیں تھا اور ان کے اہلِ خانہ سے بھی بہت کم لوگوں نے اپنی مدد اور تعاون کا اظہار کیا۔

اس حصے سے مزید

پروین رحمان قتل کیس: پولیس تفتیش میں ناکام

سپریم کورٹ میں پولیس حکام نے تسلیم کیا کہ کراچی میں ہوئے اس قتل کے معاملے میں ان کی تفتیشی صلاحیت محدود ہوگئی ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور عزم کا مطالبہ

پولیو کی نگرانی کرنے والے بورڈ آئی ایم بی پی نے وزیراعظم کے پولیو سیل کو خیالی جنگ میں مصروف ادارہ قرار دیا تھا۔

پی اے ٹی کا عید پر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ

اگرعمران خان ڈی چوک میں عید منائیں گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، پی اے ٹی ترجمان۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

zafarhassan
21 اکتوبر, 2012 19:32
i m thankful to the dawn that they help me a lot i have been in search of websites for translating urdu into english but the dawn.com is the first site that fulfills my requirements thanks.....!
محمد عارف
22 اکتوبر, 2012 01:40
صدر صاحب جو گورنر تاثیر نے کیا ۔ کیا وہ ٹھیک تھا ۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟