01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

اصغر خان کیس فیصلے کے سیاسی اثرات

۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک میں رائے عامہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ آزاد سیاسی مبصرین اور غیر جانبدار قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی پولرائیزیشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نےگزشتہ سولہ سالوں سے زیر التوا مقدمے کے فیصلے میں  پاکستان فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ اور سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کو انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں پی پی پی حکومت کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ وفاقی تحقیاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے آئی ایس آئی سے رقم وصول کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات کرے۔

سیاسی مبصرین اور قانونی ماہرین کے خیال میں آنے والے دنوں میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے پر مزید کیچڑ اچھالنا شروع کر دیں گی۔

اوراتوار کو ایسا ہی کچھ دیکھنے کو اُس وقت ملا جب قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد چوہدری نثارعلی خان پی پی پی پر برسے اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ن لیگ کے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد اپنے بیانات کو ایک مرتبہ پھر دہرایا۔

ماہرین نے عدالتی فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس فیصلے نے سیاست میں ہونے والی بار بار فوجی مداخلت پر بات کرنے  کے بجائے ملک کی دو بڑی جماعتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

کالم نگار آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک نوے میں کس سیاست دان نے کتنی رقم لی فی الحال ایک ثانوی مسئلہ ہے۔

ان کے مطابق 'اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات آئندہ نہ دہرائے جائیں تاہم بدقسمتی سے سیاست دان اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہو گئے ہیں'۔

رحمان نے کہا کہ پوری دینا میں سیاست دان ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے سچ اور مفاہمتی کمیشنز بناتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم واپس نوے کی دہائی کی سیاست کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کے دوران آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں کو رقوم کی فراہمی کے حقائق سامنے آ چکے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس سیاست دان نے کتنی رقم وصول کی۔ اب اس معاملے کی تحقیقات سے صرف سیاسی تلخی ہی جنم لے گی۔

عدالتی فیصلے کے پیراگراف چودہ میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ان سیاست دانوں کے خلاف شواہد اکھٹے کرے جنھوں نے نوے کے انتخابات سے قبل آئی ایس آئی سے رقوم وصول کی تھیں۔

جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا کہ وہ پیراگراف چودہ  کے حوالے سے الجھاؤ کا شکار ہیں کیونکہ ان کی سمجھ کے مطابق ایف آئی اے کو اس قسم کی تحقیقات کا اختیار نہیں ہے۔

جب ان کی توجہ ن لیگ کے آیف آئی اے سے تحقیقات کرانے پر تحفظات کی جانب مبزول کرائی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ جماعت کی قیادت عدالت سے رجوع کر کے فیصلے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی درخواست کر سکتی ہے۔

انہوں نے فیصلے سے جنم لینے والی سیاسی صورتحال پر افسردگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگرسنجیدہ حلقوں نے دانش مندی سے کام نہ لیا اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ جاری رہی تو آئندہ ہفتوں میں سیاسی ماحول میں تلخی بڑھ  جائے گی۔

ایک اور قانونی ماہر اسد جمال کے مطابق بہتر ہوتا اگرعدالت حکومت سے معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے اور وہیں اسے طے کرنے کی ہدایت کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی حکومت کو ایف آئی اے کے ذریعے ن لیگ کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا جانا یقینی طور پر سیاسی ماحول کو گرما دے گا۔

اسد نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ ملک کی دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کی کتنی مخالف ہیں اور اس طرح کے فیصلے کے سیاسی نتائج انتہائی ناخوشگوار ہو سکتے ہیں جن سے بلا آخر جمہوریت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہے گا۔

اس حصے سے مزید

سیاسی بحران کے پیچھے فوج یا آئی ایس آئی نہیں، آئی ایس پی آر

جاوید ہاشمی کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو بتایا کہ 'بیجز' والے کہتے ہیں کہ طاہر القادری کے ساتھ چلیں۔

'مظاہرین کیخلاف حتمی کارروائی کا سوچ رہے ہیں'

وزیردفاع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہاشمی کے الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے فوج کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی خفیہ ایجنڈا ہے


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

mukhtarazad
22 اکتوبر, 2012 07:22
جناب اس خبر میں لفظ پولورائزیشن استعمال ہوا ہے۔ کیا اس کے لیے اردو میں کوئی لفظ نہیں ہے؟ اگر نہیں تو پھر انگریزی میں اس کی تشریح ہی بریکٹ میں لکھ دیں تاکہ اردو والے انگریزی کے لفظ کے معنیٰ سمجھ سکیں۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔