02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

اصغرخان کیس:الیکشن کمیشن کارروائی نہیں کرسکتا

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم۔ فائل تصویر

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ اصغر خان کیس فیصلے میں سیاستدانوں کے خلاف الیکشن کمیشن کے پاس کاروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔

چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد الیکشن کمشن میں میڈیا سے گفتگو میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہم نے بتایا کہ اصغر کیس فیصلے میں الیکشن کمیشن کے پاس سیاستدانوں کیخلاف کاروائی کا کوئی ائینی جواز نہیں ہے۔

رحمان ملک کی اہلیت سے متعلق فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ چیرمین سینٹ سے تاحال ریفرنس موصول نہیں ہوا،ریفرنس موصول ہونے پر رحمان ملک کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملاقات میں عام انتخاب ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسرز عدلیہ سے تعینات کرنے پر بات ہوئی جس میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

بلدیاتی انتخابات کی تیاری، صوبوں سے 15 دن میں جواب طلب

سپریم کورٹ نے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے 15 دن میں جواب طلب کر لیا۔

طاہر القادری بھی عمران خان کے نقشِ قدم پر

عوامی تحریک کے قائد نے دھرنے سے آگے کے لائحہ عمل کااعلان کرتے ہوئے فیصل آباد اور لاہور میں جلسے کرنے کااعلان کردیا ہے۔

گندگی کی وجہ سے دھرنے کے شرکاء بیمار پڑ رہے ہیں

پی اے ٹی کے دھرنے میں تقریباً 75 فیصد شرکاء ڈائریا، ملیریا، جلد، گلے اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہورہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔