23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

اصغرخان کیس:الیکشن کمیشن کارروائی نہیں کرسکتا

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم۔ فائل تصویر

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ اصغر خان کیس فیصلے میں سیاستدانوں کے خلاف الیکشن کمیشن کے پاس کاروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔

چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد الیکشن کمشن میں میڈیا سے گفتگو میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہم نے بتایا کہ اصغر کیس فیصلے میں الیکشن کمیشن کے پاس سیاستدانوں کیخلاف کاروائی کا کوئی ائینی جواز نہیں ہے۔

رحمان ملک کی اہلیت سے متعلق فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ چیرمین سینٹ سے تاحال ریفرنس موصول نہیں ہوا،ریفرنس موصول ہونے پر رحمان ملک کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملاقات میں عام انتخاب ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسرز عدلیہ سے تعینات کرنے پر بات ہوئی جس میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

حکومت کو پولیو ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کی جلدی

ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرکز کا قیام انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈکو مطمین کرنے کے لیے عمل میں لایا جارہا ہے ۔

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی ختم

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان 25 ہزار روپے امداد دی جائے۔

جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی رکنیت معطل

جاوید ہاشمی کو وضاحت کیلئے انتیس ستمبر کو پارٹی سیکریٹریٹ میں طلب کرلیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-