17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پٹرولیم قیمتوں سے متعلق سمری ای سی سی کو ارسال

اطلاعات کے مطابق وزارت پٹرولیم نے قومی اسمبلی کی قرارداد اور قائمہ کمیٹی کی سفارشات کی مخالفت کی ہے۔ فائل تصویر

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی سمری وزارت پٹرولیم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ارسال کردی ہے۔

اس سلسلے میں قومی اسمبلی کی قرارداد اور قائمہ کمیٹی کی سفارشات بھی ای سی سی کو بھجوائی گئی ہیں۔

 ذرائع کے مطابق وزارت پٹرولیم نے قومی اسمبلی کی قرارداد اور قائمہ کمیٹی  کی سفارشات کی مخالفت  کی ہے۔

 واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ہفتہ وار طریقہ کار ختم اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اکتیس جولائی کی سطح پر بحال کرنے کی تین مرتبہ سفارش کی تھی۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے ہفتہ وار طریقہ کار کے مخالفین اوگرا اور وزارت خزانہ سے نظرثانی  کی سمری پر رائے نہیں لی گئی۔

 وزارت پٹرولیم کے حکام کے مطابق وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی  کے اجلاس میں ہفتہ وار قیمتوں کے سلسلہ کو  جاری رکھنے کیلیے کوشش کریں گے۔

 دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس  میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے  صدر غیاث پراچہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سی این جی مہنگی کرنے سے متعلق وزارت پٹرولیم کی سمری منظور کرلی گئی تو چونتیس روپے اضافے کے ساتھ  سی این جی کی نئی قیمت ایک سو اٹھائیس روپے فی کلو ہو جائے گی۔

 سی این جی مالکان نے گیس کی قیمت پٹرول کی قیمت کے اسی فیصد  برابر کرنے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کا اجلاس جاری

ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت پر بھی غور کیا جائے گا۔

سینیٹر فیصل رضا عابدی سے استعفیٰ طلب

پارٹی ڈسپلن کی بار بار خلاف ورزی پر پی پی پی نے فیصل رضا عابدی سے سینیٹر شپ کا استعفی طلب کرلیا ہے۔

وزیراعظم کی زرداری کو پی پی او میں ترمیم کی یقین دہانی

نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں ملکی سلامتی اور دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟