02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پیپلز پارٹی کارکنان اور اے ایس ایف اہلکاروں کے درمیان تصادم

پیپلز پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ۔ – پی پی آئی فوٹو

لاہور: لاہور ایئر پورٹ پر پیپلز پارٹی پنجاب کے نو منتخب صدرمیاں منظور وٹو کے استقبال کیلئے آنے والے پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ ہوا۔

پیر کے روز ملک کے مصروف اور حساس ترین ہوائی اڈے پر منظور وٹو کے استقبال کے لیے آئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ائیرپورٹ لاؤنج میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی جسکے باعث ان کا اے ایس ایف اہلکاروں سے تصادم ہو گیا۔

لڑائی کے دوران کم از کم تین اے ایس ایف اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

پیپپلز پارٹی پنجاب کے صدر منتخب ہونے کے بعد منظور وٹو کا یہ لاہور آنے کا  پہلا موقع تھا۔

انکی آمد اور اے ایس ایف اہلکاروں کے ائیرپورٹ کے اندر جانے کے بعد حالات پرامن ہو گئے۔ منظور وٹو جب ائیر پورٹ سے باہر آئے تو ڈھول کی تھاپ اور گھوڑوں کے رقص کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔

اس دھینگا مشتی کے بعد پارٹی جیالوں کا جلوس پہنچا ناصر باغ پہنچا  جہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے منظور وٹو نے مسلم لیگ نون  کو چلینج کیا کہ پنجاب میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر زردای نے انھیں خاص مقصد کے لیے پنجاب بھیجا ہے  اور وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔

اس موقعے پر تنویر اشرف کائرہ، فردوس عاشق اعوان اور ثمینہ خالد گھرکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب نون لیگ سے واپس لے کر تخت لاہور کے جھوٹے دعویداروں کو یہاں سے بھگا دیں گے۔

اس حصے سے مزید

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

'حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا'

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ قوم کو سیاسی بحران پر تشویش ہے اور وہ مسئلے کا فوری حل چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی 80 سےزائد کارکنان گرفتار

پنجاب کے مختلف شہروں میں اسلام آباد کے مظاہرین پر مبینہ تشدد کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔