25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پیپلز پارٹی کارکنان اور اے ایس ایف اہلکاروں کے درمیان تصادم

پیپلز پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ۔ – پی پی آئی فوٹو

لاہور: لاہور ایئر پورٹ پر پیپلز پارٹی پنجاب کے نو منتخب صدرمیاں منظور وٹو کے استقبال کیلئے آنے والے پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ ہوا۔

پیر کے روز ملک کے مصروف اور حساس ترین ہوائی اڈے پر منظور وٹو کے استقبال کے لیے آئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ائیرپورٹ لاؤنج میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی جسکے باعث ان کا اے ایس ایف اہلکاروں سے تصادم ہو گیا۔

لڑائی کے دوران کم از کم تین اے ایس ایف اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

پیپپلز پارٹی پنجاب کے صدر منتخب ہونے کے بعد منظور وٹو کا یہ لاہور آنے کا  پہلا موقع تھا۔

انکی آمد اور اے ایس ایف اہلکاروں کے ائیرپورٹ کے اندر جانے کے بعد حالات پرامن ہو گئے۔ منظور وٹو جب ائیر پورٹ سے باہر آئے تو ڈھول کی تھاپ اور گھوڑوں کے رقص کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔

اس دھینگا مشتی کے بعد پارٹی جیالوں کا جلوس پہنچا ناصر باغ پہنچا  جہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے منظور وٹو نے مسلم لیگ نون  کو چلینج کیا کہ پنجاب میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر زردای نے انھیں خاص مقصد کے لیے پنجاب بھیجا ہے  اور وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔

اس موقعے پر تنویر اشرف کائرہ، فردوس عاشق اعوان اور ثمینہ خالد گھرکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب نون لیگ سے واپس لے کر تخت لاہور کے جھوٹے دعویداروں کو یہاں سے بھگا دیں گے۔

اس حصے سے مزید

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے

آزادی مارچ، پی ٹی آئی کا حکمت عملی پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک رسمی طور پر پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ایک فراموش کردہ یادگار اپنی بحالی کی منتظر

ملتان میں حضرت سلطان باہوؒ کے ایک عقیدت مند بزرگ حضرت دلیر باہوؒ کے مزار کی بحالی کے لیے فنڈزکا انتظار ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-