18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پیپلز پارٹی کارکنان اور اے ایس ایف اہلکاروں کے درمیان تصادم

پیپلز پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ۔ – پی پی آئی فوٹو

لاہور: لاہور ایئر پورٹ پر پیپلز پارٹی پنجاب کے نو منتخب صدرمیاں منظور وٹو کے استقبال کیلئے آنے والے پارٹی کارکنوں اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے جوانوں کے درمیان لاٹھیوں اور گھوسوں کا تبادلہ ہوا۔

پیر کے روز ملک کے مصروف اور حساس ترین ہوائی اڈے پر منظور وٹو کے استقبال کے لیے آئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ائیرپورٹ لاؤنج میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی جسکے باعث ان کا اے ایس ایف اہلکاروں سے تصادم ہو گیا۔

لڑائی کے دوران کم از کم تین اے ایس ایف اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

پیپپلز پارٹی پنجاب کے صدر منتخب ہونے کے بعد منظور وٹو کا یہ لاہور آنے کا  پہلا موقع تھا۔

انکی آمد اور اے ایس ایف اہلکاروں کے ائیرپورٹ کے اندر جانے کے بعد حالات پرامن ہو گئے۔ منظور وٹو جب ائیر پورٹ سے باہر آئے تو ڈھول کی تھاپ اور گھوڑوں کے رقص کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔

اس دھینگا مشتی کے بعد پارٹی جیالوں کا جلوس پہنچا ناصر باغ پہنچا  جہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے منظور وٹو نے مسلم لیگ نون  کو چلینج کیا کہ پنجاب میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر زردای نے انھیں خاص مقصد کے لیے پنجاب بھیجا ہے  اور وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔

اس موقعے پر تنویر اشرف کائرہ، فردوس عاشق اعوان اور ثمینہ خالد گھرکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب نون لیگ سے واپس لے کر تخت لاہور کے جھوٹے دعویداروں کو یہاں سے بھگا دیں گے۔

اس حصے سے مزید

ڈیرہ غازی خان: ٹریفک حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد چودہ ہوگئی

یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کورٹ چٹھہ میں اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئی۔

خان پور: سکول وین کھائی میں گرنے سے متعدد بچے زخمی

زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے: ریسکیو ذرائع

پیر کے کہنے پر ماموں کے ہاتھوں بھانجے قتل

پیر نے ملزم کو مراد پوری ہونے کے لیے مبینہ طور پر خون بہانے کا مشورہ دیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے