29 جولائ, 2014 | 30 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ۔— فائل فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد کی اعلی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نورالحق قادری پر مشتمل سنگل بینچ نے منگل کو دارلحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بابر اعوان اور کوکب اقبال ایڈوکیٹ کی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکومت کو چھ ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے چھ ماہ قبل آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

ان کا موقف تھا کہ اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ کا نفاذ نہ ہونے کے باعث عام آدمی کے حقوق سلب ہو رہے ہیں۔

درخواست کے مطابق جمہوریت کا تقاضہ یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہونے چاہئیں، لہذا ملک کے دیگر علاقوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں۔

درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کئی سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اس حصے سے مزید

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔

مضاربہ اسکینڈل: نیب کا ایک اور ریفرنس

ریفریس میں میزبان ٹریڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غلام رسول ایوب سمیت تین افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔