01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

قومی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی معافی مانگی جائے، کائرہ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی معافی مانگی جائے، چوری کے مینڈیٹ پر بننے والی حکومت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں کے بعد تاریخ نے سچ اُگل دیا ہے۔ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین غیرقانونی ہتھکنڈوں سے اقتدار میں آتے رہے۔1990 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا گیا جبکہ 1993 اور 1997 کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی گئی۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) ضیا الحق کا طیارہ پھٹنے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) حمید گُل نے آئی جے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ 25 اکتوبر 1990 میں سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے کہہ دیا تھا کہ عوامی مینڈیٹ چُرا لیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو دھمکی دی گئی کے اگر انہوں نے فیصلہ تسلیم نہ کیا تو ان کے شوہر کو قتل کر دیا جائے گا اور سابق صدر جسٹس (ر) رفیق تارڑ کو محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دینے کے انعام میں صدر پاکستان بنا دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو گنہگار ہیں وہ بھی آج اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار اتنے سادہ نہ بنیں کیونکہ وہ بھی تمام کاموں میں حصہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس بار 1990 سے بڑا ڈاکہ مارنے کا کوئی پروگرام ہے لیکن اس بار جھوٹے پراپیگنڈے سے الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔

اس حصے سے مزید

پشاور: اسکول پر دستی بم حملے میں ٹیچر ہلاک

پشاور کے علاقے شبقدر میں ایک اسکول پر دستی بم حملے میں ایک ٹیچر ہلاک اور دو بچے زخمی ہو گئے۔

نیب کے اپیل نہ کرنے سے شریف برادران کے خلاف ریفرنسز دفن

ذرائع کے مطابق اپیل نہ کرنے کا فیصلہ نیب کا نہیں تھا، بلکہ اعلٰی حکام نے ہدایت کی تھی کہ ان مقدمات کو خارج کردیا جائے۔

ڈاکیارڈ حملہ،'بحری جہاز ہائی جیک کرنا کوئی مذاق نہیں'

یہ حملہ فوج کے اندر عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟