02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

قومی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی معافی مانگی جائے، کائرہ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی معافی مانگی جائے، چوری کے مینڈیٹ پر بننے والی حکومت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں کے بعد تاریخ نے سچ اُگل دیا ہے۔ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین غیرقانونی ہتھکنڈوں سے اقتدار میں آتے رہے۔1990 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا گیا جبکہ 1993 اور 1997 کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی گئی۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) ضیا الحق کا طیارہ پھٹنے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) حمید گُل نے آئی جے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ 25 اکتوبر 1990 میں سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے کہہ دیا تھا کہ عوامی مینڈیٹ چُرا لیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو دھمکی دی گئی کے اگر انہوں نے فیصلہ تسلیم نہ کیا تو ان کے شوہر کو قتل کر دیا جائے گا اور سابق صدر جسٹس (ر) رفیق تارڑ کو محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دینے کے انعام میں صدر پاکستان بنا دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو گنہگار ہیں وہ بھی آج اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار اتنے سادہ نہ بنیں کیونکہ وہ بھی تمام کاموں میں حصہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس بار 1990 سے بڑا ڈاکہ مارنے کا کوئی پروگرام ہے لیکن اس بار جھوٹے پراپیگنڈے سے الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔