02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی بدامنی: فیڈرل بی ایریا میں پانچ افراد ہلاک

دہشت گردی اور فائرنگ کے واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت مجموعی طور پر دس افراد ہلاک ہوگئے۔ – فائل فوٹو

کراچی: کراچی میں دہشت گردی اور فائرنگ کے واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے۔ جبکہ صرف ایک واقعہ میں پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

جمعرات کے روز فیڈرل بی ایریا بلاک بائیس میں نامعلوم افراد نے ایک مقامی ریستوران پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو افراد موقعہ پر ہلاک اور تین زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ البتہ زخمی ہونے والے تینوں افراد بھی دوران طبی امداد دم توڑ گئے۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ دکانیں اور بازار بند ہوگیا اور پولیس اور رینجرز کی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

ہلاک ہونے والوں میں مذہبی جماعت کے کارکنان قاری رفیق، خدائے نور اس کا بھائی جبرائیل جبکہ ہوٹل مالک عامر اور راہ گیر ساجد شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واردات مین نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا ہے۔

اس سے قبل نپیئر تھانے کی حدود فقیر محمد درہ روڈ پر فائرنگ سے پچاس سالہ عبداللہ بلوچ ہلاک ہوگیا تھا۔ جبکہ لیاری موسیٰ لین میں فائرنگ سے ایک شخص چل بسا اورنگی ٹاؤن میں اقبال کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

فیڈرل بی ایریا بلاک سولہ میں فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن کامران ہلاک ہوا۔ جبکہ کلری میں کراون سینما کے عقب سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش  بھی ملی تھی۔

اس حصے سے مزید

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے

'پاکستان میں حقیقی جدوجہد غریب اور اشرافیہ کے درمیان ہے'

آغا خان یونیورسٹی کے فکری مباحثے میں ماہرین نے سوال کیا کہ کیا ہمیں جمہوری فلاحی ریاست بننا چاہیے یا سیکورٹی اسٹیٹ؟


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟