18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان کی مسجد میں دھماکہ، 40 سے زائد افراد ہلاک

افغان پولیس اہلکار دھماکے میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔ فوٹو رائٹرز

کابل: جمعہ کو عید الاضحی کے موقع پر شمالی افغانستان میں مایمانا شہر میں واقع مسجد کے اندر نمازعید کےدوران خودکش دھماکے میں پانچ بچوں سمیت چالیس سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم تیس افراد زخمی ہوگئے۔

یہ چھ سال قبل دسمبر میں یوم عاشور کے موقع پر کابل میں مزار پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد سب سے ہولناک واقعہ ہے، مذکورہ دھماکے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ فریاب کے شہر میمانا میں ہونے والے نماز عید کے اجتماع کے موقع پر ہونے والے دھماکے میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ابھی تک کسی نے بھی مذکورہ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم خودکش دھماکے افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کو نقصان پہنچانے کیلیے طالبان عسکریت پسندوں کا اہم ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

صوبے کے پولیس چیف عبدالخالق اکسائی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ مذکورہ حملہ جمعرات کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کے نام نہاد گورنر گورنر اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے انتقام کے طور پر کیا گیا ہے۔

صوبے کے ڈپٹی گورنر عبدلستار باریز نے کہا کہ حملہ آور پولیس یونیفارم پہنا ہوا تھا اور اس نے نمازیوں سے بھری عید گاہ کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر خود کو اڑا لیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں بیس سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور چھ بچوں سمیت 42 افراد ہلاک ہو گئے۔

فریاب سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے نصیب اللہ فائق جو حملے کے موقع پر موجود تھے کے مطابق دھماکے میں 47 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے جن میں سے پندرہ کی حالت نازک ہے۔

نماز عید کے موقع پر موجود آفیشل باریز نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم عید نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے چاروں طرف گرد اور دھویں کے بادل چھا گئے، جائے وقوعہ پر ہر طرف پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اعضا بکھرے پڑے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس خود کش بمبار 14 سے پندرہ سال کا لڑکا تھا، مسجد میں ایک زوردار دھماکا ہوا جس سے ہر انسانی اعضا بکھر گئے اور چیخ وپکار مچ گئی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسلام دشمن فعل اور درندگی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر مسلمانوں کی خوشیاں چھیننے والے انسان یا مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں۔

امریکی سفارتخانے اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جان ایلن نے بھی خود کش حملے اور اس میں معصوم نمازیوں کی ہلاکت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغانستان میں مسجد میں نماز عید ک دوران کیے گئے دھماکے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان معظم علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور عوام سے اس حادثے پر دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ کام کر کے خطے سے اس لعنت کو نکال پھینکیں گے۔

گزشتہ ہفتے شمالی صوبے بلخ کے شہر فریاب میں سڑک کنارے بم پھٹنے سے باراتیوں کی بس میں سوار 19 افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے تھے۔

آفیشل کے مطابق جمعرات کو فریاب میں گاؤں پر حملہ کرنے والے چوبیس طالبان اور ان کا گورنر افغان سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے بعد ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ایک ہزار 145 شہری مارے جاچکے ہیں جس میں سے اسی فیصد کی ذمے داری عسکریت پسندوں پر عائد کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس لڑائی میں تین ہزار اکیس افراد مارے گئے جو اب تک ایک سال کے دوران افغان جنگ میں مارے گئے شہریوں کی ریکارڈ تعداد ہے۔

اس حصے سے مزید

افغانستان: طالبان کے حملے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک

صوبائی پولیس چیف ترجمان کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی سے آٹھ طالبان بھی مارے گئے ہیں۔

کابل: امریکی سفارتخانے کے قریب خودکش حملہ،3 ہلاک

حکام کے مطابق خودکش حملہ آور بارود سے بھری ایک گاڑی میں سوار تھا، جس نے غیرملکی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔

کابل: امریکی فضائی حملہ، 14 شہری ہلاک

دوسری جانب نیٹو ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ دنگام میں ایک منظم کارروائی کے نتیجے میں ایک مسلح جنگجو ہلاک ہوا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔