24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان کی مسجد میں دھماکہ، 40 سے زائد افراد ہلاک

افغان پولیس اہلکار دھماکے میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔ فوٹو رائٹرز

کابل: جمعہ کو عید الاضحی کے موقع پر شمالی افغانستان میں مایمانا شہر میں واقع مسجد کے اندر نمازعید کےدوران خودکش دھماکے میں پانچ بچوں سمیت چالیس سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم تیس افراد زخمی ہوگئے۔

یہ چھ سال قبل دسمبر میں یوم عاشور کے موقع پر کابل میں مزار پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد سب سے ہولناک واقعہ ہے، مذکورہ دھماکے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ فریاب کے شہر میمانا میں ہونے والے نماز عید کے اجتماع کے موقع پر ہونے والے دھماکے میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ابھی تک کسی نے بھی مذکورہ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم خودکش دھماکے افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کو نقصان پہنچانے کیلیے طالبان عسکریت پسندوں کا اہم ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

صوبے کے پولیس چیف عبدالخالق اکسائی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ مذکورہ حملہ جمعرات کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کے نام نہاد گورنر گورنر اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے انتقام کے طور پر کیا گیا ہے۔

صوبے کے ڈپٹی گورنر عبدلستار باریز نے کہا کہ حملہ آور پولیس یونیفارم پہنا ہوا تھا اور اس نے نمازیوں سے بھری عید گاہ کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر خود کو اڑا لیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں بیس سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور چھ بچوں سمیت 42 افراد ہلاک ہو گئے۔

فریاب سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے نصیب اللہ فائق جو حملے کے موقع پر موجود تھے کے مطابق دھماکے میں 47 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے جن میں سے پندرہ کی حالت نازک ہے۔

نماز عید کے موقع پر موجود آفیشل باریز نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم عید نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے چاروں طرف گرد اور دھویں کے بادل چھا گئے، جائے وقوعہ پر ہر طرف پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اعضا بکھرے پڑے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس خود کش بمبار 14 سے پندرہ سال کا لڑکا تھا، مسجد میں ایک زوردار دھماکا ہوا جس سے ہر انسانی اعضا بکھر گئے اور چیخ وپکار مچ گئی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسلام دشمن فعل اور درندگی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر مسلمانوں کی خوشیاں چھیننے والے انسان یا مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں۔

امریکی سفارتخانے اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جان ایلن نے بھی خود کش حملے اور اس میں معصوم نمازیوں کی ہلاکت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغانستان میں مسجد میں نماز عید ک دوران کیے گئے دھماکے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان معظم علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور عوام سے اس حادثے پر دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ کام کر کے خطے سے اس لعنت کو نکال پھینکیں گے۔

گزشتہ ہفتے شمالی صوبے بلخ کے شہر فریاب میں سڑک کنارے بم پھٹنے سے باراتیوں کی بس میں سوار 19 افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے تھے۔

آفیشل کے مطابق جمعرات کو فریاب میں گاؤں پر حملہ کرنے والے چوبیس طالبان اور ان کا گورنر افغان سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے بعد ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ایک ہزار 145 شہری مارے جاچکے ہیں جس میں سے اسی فیصد کی ذمے داری عسکریت پسندوں پر عائد کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس لڑائی میں تین ہزار اکیس افراد مارے گئے جو اب تک ایک سال کے دوران افغان جنگ میں مارے گئے شہریوں کی ریکارڈ تعداد ہے۔

اس حصے سے مزید

افغانستان کا پاکستان پر شدت پسند حملوں کی پشت پناہی کا الزام

ماضی میں بھی پاکستان ان الزامات کی ترید کرتا رہا ہے۔ افغان ترجمان نے اس حوالے سے کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیے۔

کابل: خود کش حملے میں تین غیر ملکی مشیر ہلاک

ابتدائی رپورٹس میں غیر ملکی مشیروں کی شہریت کے بارے تفصیلات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔

'پاکستان، افغانستان ناکام ہوئے تو القاعدہ واپس آ جائے گی'

افغانستان میں کامیابی کا دارومدار پاکستان کی اپنی سرحدوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پر بھی ہے، امریکی جنرل۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-