03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

میانمار: تازہ نسلی فسادات میں 100 سے زائد افراد ہلاک

میانمار میں بدھ مت راکھنی اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان نسلی فسادات میں ایک سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ فائل تصویر رائٹرز

ستوے: میانمار کی مغربی ریاست راکھین کے ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ تشدد کی لہر میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

راکھین کے ریاستی ترجمان ون میائنگ نے جمعہ کو بتایا کہ بدھ مت کے پیروکار اور مسلمانوں کی روہنگیا برادری کے درمیان اتوار کو شروع ہونے والے فسادات میں ۔ لڑائی میں بہتر افراد زخمی بھی ہوئے جن میں دس بچے شامل ہیں۔

ان تازہ حملوں کے بعد جب میانمار کی مرکزی اسلامی تنظیم نے جمعہ سے شروع ہونے والی عیدالاضحیٰ کی چار روزہ تقریبات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر بین الاقوامی برادری نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے جمعرات کو اپنے ردِ عمل میں کہا کہ امریکہ تمام فریقین سے فوری طور پر ہر قسم کے حملے بند کرنے کی درخواست کرتا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ نے تشدد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میانمار کی حکومت کی جانب سے آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیشی تارکین قرار دیا جاتا ہےاور عام برمی باشندے بھی انہیں بنگالی کے نام سے پکارتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

اقوام متحدہ کافلسطینی زمینوں پراسرائیلی قبضے پر اظہار تشویش

بان کی مون نے بیت اللحم کے ایک ہزار ایکڑ رقبے کو خودساختہ" ریاستی زمین" قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے

'پاکستان کی جماعتیں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کریں '

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان جین ساکی نے ایک نیوز بریفنگ میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان مصالحت پر زور دیا۔

داعش کے ہاتھوں ایک اور امریکی صحافی قتل

انٹرنیٹ پر جاری ویڈیو میں سوٹلوف کو نارنجی رنگ کے لباس میں دیکھا جا سکتا ہے،ایک نقاب پوش ان کے سر پر خنجر تانے کھڑا ہے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔