03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

اقبال حیدر انتقال کر گئے

اقبال حیدر۔— فائل فوٹو

کراچی: پاکستان کے معروف قانون دان، سیاستدان اور انسانی حقوق کے علمبرداراقبال حیدر انتقال کرگئے۔

سڑسٹھ سالہ سابق سینیٹر اقبال حیدر پھیپھڑوں کے عارضےمیں مبتلا تھے، ان کا انتقال اتوار کی صبح کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

ڈان نیوز کے مطابق، ان کی نماز جنازہ کل ڈیفنس میں ادا کی جائے گی۔

چودہ جنوری انیس سو پینتالیس کو آگرہ میں پیدا ہونے والے اقبال حیدر نے پاکستان ہجرت کے بعد ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔

معاشیات اور کامرس میں بی اے کرنے بعد انیس سو چھیاسٹھ میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں، انہوں نے امریکی وبرطانوی تعلیمی اداروں سےقانون کی اعلٰی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

اقبال حیدرنے عملی زندگی کاآغاز وکالت سے کیااور قانون میں مہارت کے باعث انیس سو بہترمیں انہیں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کااجازت نامہ مل گیا۔

اقبال حیدرنے سیاست کا آغاز پیپلزپارٹی سے کیا تاہم انیس سو ستترسے انیس سو بیاسی تک قومی محاذ آزادی سے بھی منسلک رہے۔

انیس سوتراسی میں ضیاء الحق کے دورمیں چلنے والی تحریک بحالی جمہوریت میں پیش پیش رہے۔اس دوران انہیں زیرحراست بھی رکھاگیا۔

انیس سو اٹھاسی میں انہوں نے دوبارہ پی پی پی میں شمولیت اختیارکی اورانیس سو نواسی میں وزیراعلٰی سندھ کے مشیرمقررہوئے۔

وہ پہلی بار انیس سو اکیانوے میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئےجس کے بعد انیس سوستانوے میں دوبارہ چھ سال کےلیے سینیٹرمنتخب ہوئے۔

انہوں نے نومبرانیس سوترانوے میں وفاقی وزیرقانون کے عہدے کاحلف اٹھایا۔

انیس سو چورانوے میں پاکستان میں پہلے وزیرانسانی حقوق اور اٹارنی جنرل مقرر ہوئےجس پروہ انیس سوستانوے تک فائزرہے۔

اقبال حیدر انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین بھی تھے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: پولیس چوکی پر دستی بم حملہ، چار اہلکار زخمی

شاہراہِ فصل پر نرسری کے مقام پر پولیس چوکی پر دستی بم حملے سے چوکی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔