01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

اقبال حیدر انتقال کر گئے

اقبال حیدر۔— فائل فوٹو

کراچی: پاکستان کے معروف قانون دان، سیاستدان اور انسانی حقوق کے علمبرداراقبال حیدر انتقال کرگئے۔

سڑسٹھ سالہ سابق سینیٹر اقبال حیدر پھیپھڑوں کے عارضےمیں مبتلا تھے، ان کا انتقال اتوار کی صبح کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

ڈان نیوز کے مطابق، ان کی نماز جنازہ کل ڈیفنس میں ادا کی جائے گی۔

چودہ جنوری انیس سو پینتالیس کو آگرہ میں پیدا ہونے والے اقبال حیدر نے پاکستان ہجرت کے بعد ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔

معاشیات اور کامرس میں بی اے کرنے بعد انیس سو چھیاسٹھ میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں، انہوں نے امریکی وبرطانوی تعلیمی اداروں سےقانون کی اعلٰی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

اقبال حیدرنے عملی زندگی کاآغاز وکالت سے کیااور قانون میں مہارت کے باعث انیس سو بہترمیں انہیں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کااجازت نامہ مل گیا۔

اقبال حیدرنے سیاست کا آغاز پیپلزپارٹی سے کیا تاہم انیس سو ستترسے انیس سو بیاسی تک قومی محاذ آزادی سے بھی منسلک رہے۔

انیس سوتراسی میں ضیاء الحق کے دورمیں چلنے والی تحریک بحالی جمہوریت میں پیش پیش رہے۔اس دوران انہیں زیرحراست بھی رکھاگیا۔

انیس سو اٹھاسی میں انہوں نے دوبارہ پی پی پی میں شمولیت اختیارکی اورانیس سو نواسی میں وزیراعلٰی سندھ کے مشیرمقررہوئے۔

وہ پہلی بار انیس سو اکیانوے میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئےجس کے بعد انیس سوستانوے میں دوبارہ چھ سال کےلیے سینیٹرمنتخب ہوئے۔

انہوں نے نومبرانیس سوترانوے میں وفاقی وزیرقانون کے عہدے کاحلف اٹھایا۔

انیس سو چورانوے میں پاکستان میں پہلے وزیرانسانی حقوق اور اٹارنی جنرل مقرر ہوئےجس پروہ انیس سوستانوے تک فائزرہے۔

اقبال حیدر انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین بھی تھے۔

اس حصے سے مزید

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے

'پاکستان میں حقیقی جدوجہد غریب اور اشرافیہ کے درمیان ہے'

آغا خان یونیورسٹی کے فکری مباحثے میں ماہرین نے سوال کیا کہ کیا ہمیں جمہوری فلاحی ریاست بننا چاہیے یا سیکورٹی اسٹیٹ؟

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات، پانچ افراد ہلاک

دوسری جانب ایسٹ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟