23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

اقبال حیدر انتقال کر گئے

اقبال حیدر۔— فائل فوٹو

کراچی: پاکستان کے معروف قانون دان، سیاستدان اور انسانی حقوق کے علمبرداراقبال حیدر انتقال کرگئے۔

سڑسٹھ سالہ سابق سینیٹر اقبال حیدر پھیپھڑوں کے عارضےمیں مبتلا تھے، ان کا انتقال اتوار کی صبح کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

ڈان نیوز کے مطابق، ان کی نماز جنازہ کل ڈیفنس میں ادا کی جائے گی۔

چودہ جنوری انیس سو پینتالیس کو آگرہ میں پیدا ہونے والے اقبال حیدر نے پاکستان ہجرت کے بعد ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔

معاشیات اور کامرس میں بی اے کرنے بعد انیس سو چھیاسٹھ میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں، انہوں نے امریکی وبرطانوی تعلیمی اداروں سےقانون کی اعلٰی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

اقبال حیدرنے عملی زندگی کاآغاز وکالت سے کیااور قانون میں مہارت کے باعث انیس سو بہترمیں انہیں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کااجازت نامہ مل گیا۔

اقبال حیدرنے سیاست کا آغاز پیپلزپارٹی سے کیا تاہم انیس سو ستترسے انیس سو بیاسی تک قومی محاذ آزادی سے بھی منسلک رہے۔

انیس سوتراسی میں ضیاء الحق کے دورمیں چلنے والی تحریک بحالی جمہوریت میں پیش پیش رہے۔اس دوران انہیں زیرحراست بھی رکھاگیا۔

انیس سو اٹھاسی میں انہوں نے دوبارہ پی پی پی میں شمولیت اختیارکی اورانیس سو نواسی میں وزیراعلٰی سندھ کے مشیرمقررہوئے۔

وہ پہلی بار انیس سو اکیانوے میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئےجس کے بعد انیس سوستانوے میں دوبارہ چھ سال کےلیے سینیٹرمنتخب ہوئے۔

انہوں نے نومبرانیس سوترانوے میں وفاقی وزیرقانون کے عہدے کاحلف اٹھایا۔

انیس سو چورانوے میں پاکستان میں پہلے وزیرانسانی حقوق اور اٹارنی جنرل مقرر ہوئےجس پروہ انیس سوستانوے تک فائزرہے۔

اقبال حیدر انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین بھی تھے۔

اس حصے سے مزید

حکومت سخت رویے سے گریز کرے، الطاف حسین

ایم کیو ایم کے قائد نے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کی خاطر معاملے کو ٹھنڈا کردیں۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج: مندی کے رجحان میں کمی

جمعرات کو کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 400 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29 ہزار کی سطح عبور کرگیا ہے۔

'ریڈ زون سے ٹی وی کیمرے ہٹادیں، انقلاب ختم ہوجائے گا'

یہ بات ماہرِ سیاسیات و اقتصادیات ڈاکٹر اکبر زیدی نے پاکستان میں سماجی تبدیلیوں کے موضوع پر اپنے لیکچر کے دوران کہی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔