29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ممبئی حملوں کی تربیت لشکر طیبہ کے مراکز میں دی گئی'

ذکی الرحمان لکھوی اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین مظفر آباد میں ایک ریلی کے دوران دعا کر رہے ہیں۔—اے پی فائل

راولپنڈی: انٹیلیجنس حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں موجود مختلف مراکز میں تربیت حاصل کی تھی۔

ہفتہ کو کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے پانچ انسپیکٹرز نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمان کے سامنے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔

اپنے بیانات میں انہوں نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کی تربیت اور صلاحتیوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ پانچوں انسپیکٹرز اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین اور شیخوپورہ میں سی آئی ڈی اسٹیشنز کے انچارج ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث افراد کو لشکر طیبہ کے کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ، مانسہرہ کے علاقے بٹل، ٹھٹہ کے علاقے میر پور ساکرو اور مظفر آباد میں تربیت فراہم کی گئی۔

اوکاڑہ میں تعینات سی آئی ڈی افسر کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کا ' آپریشنل کمانڈر' تھا اور اس نے دوسرے عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔

انہوں نے بتایا کہ لکھوی کنڑ بھی جا چکا ہے، جہاں اس نے سویت فورسز کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا تھا۔

بیان کے مطابق، اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد کا رہائشی لکھوی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز آلات  میں مہارت رکھتے ہیں۔

'لکھوی آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ کا ' کمانڈر' بھی رہ چکے ہیں'۔

دوسرے انسپیکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ حملوں میں ملوث ملزمان عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق اور شاہد جمیل ریاض کو بھی کالعدم جماعت کے مراکز پر تربیت فراہم کی گئی۔

بیان کے مطابق، ان سب ملزمان کو کراچی کے گڈاپ ٹاؤن میں یوسف گوٹھ کے قریب سمندر میں بھی ٹریننگ دی گئی تھی۔

فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پروسیکیوٹر چوہدری ذوالفقارعلی نے جج کو بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے والے انسپیکٹرز انتہائی ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے بیان جمع کرائے ہیں۔

علی نے مزید بتایا کہ ان انسپیکٹرز کی ملزمان کے خلاف کوئی ذاتی عناد نہیں اور کالعدم تنظیموں کے شدت پسندوں پر نظر رکھنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے۔

لکھوی کے وکیل خواجہ محمد حارث نے گواہوں سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے ملزمان کو لشکر طیبہ کے مراکز میں تربیت لیتے دیکھا تھا؟

گواہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نہ تو کبھی ان مراکز کا دورہ کیا اور نہ ہی کسی کو تربیت لیتے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کا ذریعہ مخبر تھے۔

اس موقع پر حارث نے کہا کہ گواہوں کو ان کے موکل کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی کوئی براہ راست معلومات نہیں  اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی متعلقہ پولیس افسران کو اپنی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کیا۔

ڈان سے گفتگو میں حارث کا کہنا تھا کہ اگر جمع کرائے گئے بیانات میں سچائی ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افسران کوتائی کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ اگر اس طرح کے تربیتی مراکز کام کر رہے تھے تو یہ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں بند کرانے کے اقدامات کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان افسران کو معلوم تھا کہ  لکھوی اور ان کے ساتھی مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہوں نے ملزمان کو روکنے کے لیے ان کے نام 'فورتھ شیڈول'  میں  شامل کیوں نہیں کیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف فرضی کہانی گھڑی ہے اور پانچوں افسران کے بیانات اسی کہانی کا حصہ ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

انور امجد
12 نومبر, 2012 01:38
بڑے دنوں کے بعد سی آئ ڈی کے محکمہ کا نام سنا۔ میں تو سمجھتا تھا کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔ خبر میں یہ صحیح ہے کہ سب سے پہلے ان پانچوں نکمے انسپیکٹروں کے خلاف کاروائ ہونی چاہیے کہ جب یہ بات ان کے علم میں آئ تو انہوں نے خود کیا کیا۔ جس طرح ملک میں دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سی آئ ڈی کے افسران اور اہلکار اب صرف حکومت سے وظیفہ لیتے ہیں اور کام کاج کچھ نہیں کرتے۔ یا تو اس محکمہ کو ختم کر دیں تاکہ عوام کا پیسہ نالائقوں میں نہ باٹا جائے اور یا اس کو فعال بنایا جائے۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

بلاگ

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-

کراچی کی قدیم عید گاہیں

سمجھا یہ جاتا ہے کہ کراچی کی پہلی عید گاہ بندر روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل ہے لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہیں

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے