19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ممبئی حملوں کی تربیت لشکر طیبہ کے مراکز میں دی گئی'

ذکی الرحمان لکھوی اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین مظفر آباد میں ایک ریلی کے دوران دعا کر رہے ہیں۔—اے پی فائل

راولپنڈی: انٹیلیجنس حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں موجود مختلف مراکز میں تربیت حاصل کی تھی۔

ہفتہ کو کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے پانچ انسپیکٹرز نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمان کے سامنے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔

اپنے بیانات میں انہوں نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کی تربیت اور صلاحتیوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ پانچوں انسپیکٹرز اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین اور شیخوپورہ میں سی آئی ڈی اسٹیشنز کے انچارج ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث افراد کو لشکر طیبہ کے کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ، مانسہرہ کے علاقے بٹل، ٹھٹہ کے علاقے میر پور ساکرو اور مظفر آباد میں تربیت فراہم کی گئی۔

اوکاڑہ میں تعینات سی آئی ڈی افسر کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کا ' آپریشنل کمانڈر' تھا اور اس نے دوسرے عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔

انہوں نے بتایا کہ لکھوی کنڑ بھی جا چکا ہے، جہاں اس نے سویت فورسز کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا تھا۔

بیان کے مطابق، اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد کا رہائشی لکھوی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز آلات  میں مہارت رکھتے ہیں۔

'لکھوی آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ کا ' کمانڈر' بھی رہ چکے ہیں'۔

دوسرے انسپیکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ حملوں میں ملوث ملزمان عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق اور شاہد جمیل ریاض کو بھی کالعدم جماعت کے مراکز پر تربیت فراہم کی گئی۔

بیان کے مطابق، ان سب ملزمان کو کراچی کے گڈاپ ٹاؤن میں یوسف گوٹھ کے قریب سمندر میں بھی ٹریننگ دی گئی تھی۔

فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پروسیکیوٹر چوہدری ذوالفقارعلی نے جج کو بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے والے انسپیکٹرز انتہائی ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے بیان جمع کرائے ہیں۔

علی نے مزید بتایا کہ ان انسپیکٹرز کی ملزمان کے خلاف کوئی ذاتی عناد نہیں اور کالعدم تنظیموں کے شدت پسندوں پر نظر رکھنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے۔

لکھوی کے وکیل خواجہ محمد حارث نے گواہوں سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے ملزمان کو لشکر طیبہ کے مراکز میں تربیت لیتے دیکھا تھا؟

گواہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نہ تو کبھی ان مراکز کا دورہ کیا اور نہ ہی کسی کو تربیت لیتے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کا ذریعہ مخبر تھے۔

اس موقع پر حارث نے کہا کہ گواہوں کو ان کے موکل کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی کوئی براہ راست معلومات نہیں  اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی متعلقہ پولیس افسران کو اپنی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کیا۔

ڈان سے گفتگو میں حارث کا کہنا تھا کہ اگر جمع کرائے گئے بیانات میں سچائی ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افسران کوتائی کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ اگر اس طرح کے تربیتی مراکز کام کر رہے تھے تو یہ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں بند کرانے کے اقدامات کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان افسران کو معلوم تھا کہ  لکھوی اور ان کے ساتھی مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہوں نے ملزمان کو روکنے کے لیے ان کے نام 'فورتھ شیڈول'  میں  شامل کیوں نہیں کیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف فرضی کہانی گھڑی ہے اور پانچوں افسران کے بیانات اسی کہانی کا حصہ ہیں۔

اس حصے سے مزید

دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے اعلان کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں کےسیاسی جرگےنےنوازشریف،عمران خان اورطاہرالقادری کوخط لکھاہےجس میں یہ مطالبہ کیاگیاہے۔

وزیراعظم، اسمبلی کے 70 فیصد ارکان ٹیکس نہیں دیتے، عمران

گزشتہ حکومت میں نوازشریف کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا پھر پروٹوکول کیوں تھا، سربراہ پی ٹی آئی۔

مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس طلب،چاروں وزرائے اعلی مدعو

وزیراعظم نے22ستمبرکواجلاس طلب کیا ہے،وزیراعلی خیبر پختونخوا نوازشریف کے استعفی کے لیے دیئے جانے والے دھرنے میں شریک ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

انور امجد
12 نومبر, 2012 01:38
بڑے دنوں کے بعد سی آئ ڈی کے محکمہ کا نام سنا۔ میں تو سمجھتا تھا کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔ خبر میں یہ صحیح ہے کہ سب سے پہلے ان پانچوں نکمے انسپیکٹروں کے خلاف کاروائ ہونی چاہیے کہ جب یہ بات ان کے علم میں آئ تو انہوں نے خود کیا کیا۔ جس طرح ملک میں دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سی آئ ڈی کے افسران اور اہلکار اب صرف حکومت سے وظیفہ لیتے ہیں اور کام کاج کچھ نہیں کرتے۔ یا تو اس محکمہ کو ختم کر دیں تاکہ عوام کا پیسہ نالائقوں میں نہ باٹا جائے اور یا اس کو فعال بنایا جائے۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔