18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

میمو کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

سپریم کورٹ،۔ فائل تصویر اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ حیسن حقانی کی سکیورٹی سے متعلق آگاہ کریں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمی کے نو رکنی بینچ نے میمو کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے عاصمہ جھانگیر کو حیسن حقانی کی سکیورٹی سے متعلق سیکرٹری داخلہ کو درخواست دینے کی ہدایت کی۔

عدالت کا عاصمہ جھانگیر سے کہنا تھا کہ حیسن حقانی  عدالت کو بتائیں کہ انہیں کس قسم کے خدشات ہیں۔

عاصمہ جھانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بدترین ہے۔

سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں سکیورٹی فراہم کریں گے۔

عاصمہ جھا نگیر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے پوچھا ہے ان کا پاکستان آنا کیوں ضروری ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حقانی اگر واپس نہیں آئے تو عدالت ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے گی۔

عاصمہ جھانگیر نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کی صورتحال پر عدالت نے خود  تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عاصمہ جھانگیر نے کہا کہ ماضی میں حقانی اتنے اہم تھے کہ انہیں وزیر اعظم ہاوس میں جگہ دی گئی اور اب انہیں اپنی سکیورٹی سے متعلق وزارت داخلہ میں درخواست دینی پڑی۔

اس حصے سے مزید

سپریم کورٹ نے نیب چیئرمین تقرری کو قانونی قرار دیدیا

دوسری جانب بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی نیب چیئرمین کی تقرری پر متفق ہیں۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان بل 2014 کو سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔