18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کا طالبان کو رہا کرنے پر اتفاق

صلاح الدین ربانی۔ - رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان منگل کے روز طالبان کے چند رہنماؤں کو جیل سے رہا  کرنے کے لیئے مان گیا ہے۔

البتہ یہ بات دونوں فریقین نے عوام کو نہیں بتائی ہے لیکن یہ بات افغان اعلی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے دورے کے دوسرے دن ہوئی۔

تاہم یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوپائی ہے کہ تقریباً دس قیدی منگل کے روز ہی رہا کر دیے گئے ہیں یا ربانی کے دورے کے بعد رہا کیے جائیں گے۔

ذرئع کے مطابق چھوڑے جانے والے ان قیدیوں میں طالبان کی کمانڈ میں دوسرے – ملاح برادر شامل نہیں ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سن دو ہزار دس سے کراچی میں گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی حکام اور ربانی کی طرف سے امن وفد کے درمیان مذاکرات بدھ کو جاری رکھیں گے اور تبھی دونوں فریقین کی جانب سے ہونے والی بات چیت پر ایک مشترکہ بیان متوقع ہے۔

خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے بیچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی پیش رفت بھی سستی کا شکار تھی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان اعلیٰ امن کونسل کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ہر ممکن تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی پاکستان کے اپنے استحکام اور خوشحالی کیلیے ضروری ہے۔

اس حصے سے مزید

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فرم کا منیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔