19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کا طالبان کو رہا کرنے پر اتفاق

صلاح الدین ربانی۔ - رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان منگل کے روز طالبان کے چند رہنماؤں کو جیل سے رہا  کرنے کے لیئے مان گیا ہے۔

البتہ یہ بات دونوں فریقین نے عوام کو نہیں بتائی ہے لیکن یہ بات افغان اعلی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے دورے کے دوسرے دن ہوئی۔

تاہم یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوپائی ہے کہ تقریباً دس قیدی منگل کے روز ہی رہا کر دیے گئے ہیں یا ربانی کے دورے کے بعد رہا کیے جائیں گے۔

ذرئع کے مطابق چھوڑے جانے والے ان قیدیوں میں طالبان کی کمانڈ میں دوسرے – ملاح برادر شامل نہیں ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سن دو ہزار دس سے کراچی میں گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی حکام اور ربانی کی طرف سے امن وفد کے درمیان مذاکرات بدھ کو جاری رکھیں گے اور تبھی دونوں فریقین کی جانب سے ہونے والی بات چیت پر ایک مشترکہ بیان متوقع ہے۔

خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے بیچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی پیش رفت بھی سستی کا شکار تھی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان اعلیٰ امن کونسل کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ہر ممکن تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی پاکستان کے اپنے استحکام اور خوشحالی کیلیے ضروری ہے۔

اس حصے سے مزید

یوم نجات کے لیے پی ٹی آئی اور انتظامیہ کی تیاریاں

یوم نجات منانے کے اعلان کے بعد سے پی ٹی آئی اور انتظامیہ نے طاقت کے اس مظاہرے کے لیے اپنی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے اعلان کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں کےسیاسی جرگےنےنوازشریف،عمران خان اورطاہرالقادری کوخط لکھاہےجس میں یہ مطالبہ کیاگیاہے۔

وزیراعظم، اسمبلی کے 70 فیصد ارکان ٹیکس نہیں دیتے، عمران

گزشتہ حکومت میں نوازشریف کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا پھر پروٹوکول کیوں تھا، سربراہ پی ٹی آئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔