23 اپريل, 2014 | 22 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کا طالبان کو رہا کرنے پر اتفاق

صلاح الدین ربانی۔ - رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان منگل کے روز طالبان کے چند رہنماؤں کو جیل سے رہا  کرنے کے لیئے مان گیا ہے۔

البتہ یہ بات دونوں فریقین نے عوام کو نہیں بتائی ہے لیکن یہ بات افغان اعلی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے دورے کے دوسرے دن ہوئی۔

تاہم یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوپائی ہے کہ تقریباً دس قیدی منگل کے روز ہی رہا کر دیے گئے ہیں یا ربانی کے دورے کے بعد رہا کیے جائیں گے۔

ذرئع کے مطابق چھوڑے جانے والے ان قیدیوں میں طالبان کی کمانڈ میں دوسرے – ملاح برادر شامل نہیں ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سن دو ہزار دس سے کراچی میں گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی حکام اور ربانی کی طرف سے امن وفد کے درمیان مذاکرات بدھ کو جاری رکھیں گے اور تبھی دونوں فریقین کی جانب سے ہونے والی بات چیت پر ایک مشترکہ بیان متوقع ہے۔

خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے بیچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی پیش رفت بھی سستی کا شکار تھی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان اعلیٰ امن کونسل کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ہر ممکن تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی پاکستان کے اپنے استحکام اور خوشحالی کیلیے ضروری ہے۔

اس حصے سے مزید

مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

کل ہی نوٹس ملا ہے اسلئے کم ازکم 15 دن کا وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل کی سندھ ہائی کورٹ سے درخواست۔

جیو کیخلاف حکومتی درخواست پر جائزہ کمیٹی قائم

کمیٹی پیمرا کے ممبران پرویز راٹھور، اسرار عباسی اور اسماعیل شاہ پر مشتمل، حتمی فیصلہ پیمرا بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔

اسلام آباد میں کچی آبادیوں پر کریک ڈاؤن

اسلام آباد کی قریب ایک درجن کے قریب کچی آبادیوں کے خلاف دارالحکومت کی انتظامیہ کی کارروائی جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟

مووی ریویو: ٹو اسٹیٹس

عالیہ بھٹ کی بے ساختہ اداکاری نے اپنے اب تک بے شمار مداح پیدا کرلئے ہیں حالانکہ یہ ان کی تیسری فلم ہے۔

بیچارے مولانا حالی اور صحافت

'صحافت' لفظ کی طاقت کا بے جا استعمال نہیں بلکہ محرومیت کے شکار لوگوں کو طاقت بخشنا ہے