23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کا طالبان کو رہا کرنے پر اتفاق

صلاح الدین ربانی۔ - رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: پاکستان منگل کے روز طالبان کے چند رہنماؤں کو جیل سے رہا  کرنے کے لیئے مان گیا ہے۔

البتہ یہ بات دونوں فریقین نے عوام کو نہیں بتائی ہے لیکن یہ بات افغان اعلی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے دورے کے دوسرے دن ہوئی۔

تاہم یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوپائی ہے کہ تقریباً دس قیدی منگل کے روز ہی رہا کر دیے گئے ہیں یا ربانی کے دورے کے بعد رہا کیے جائیں گے۔

ذرئع کے مطابق چھوڑے جانے والے ان قیدیوں میں طالبان کی کمانڈ میں دوسرے – ملاح برادر شامل نہیں ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سن دو ہزار دس سے کراچی میں گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی حکام اور ربانی کی طرف سے امن وفد کے درمیان مذاکرات بدھ کو جاری رکھیں گے اور تبھی دونوں فریقین کی جانب سے ہونے والی بات چیت پر ایک مشترکہ بیان متوقع ہے۔

خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے بیچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی پیش رفت بھی سستی کا شکار تھی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان اعلیٰ امن کونسل کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ہر ممکن تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی پاکستان کے اپنے استحکام اور خوشحالی کیلیے ضروری ہے۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: حکومت اوراحتجاجی جماعتوں میں مذاکرات جاری

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

'وزیراعظم ممکنہ اندرونی بغاوت سے خبردار رہیں'

حکمران جماعت کی بھاری اکثریت کے باوجود پارٹی میں موجود 'میر جعفر و میر صادق' سے خطرہ ہے، جماعت اسلامی

پٹرولیم مصنوعات میں چار فیصد تک کمی کا امکان

سیاسی بحران میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی مکمل طور پر صارفین کو منتقل کرسکتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔