18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

صدر زرداری کا شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ

صدر آصف علی زرداری۔ رائٹرز تصویر

گجرات: صدر آصف علی زرداری نے بدھ کے دن صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں کی تیاری دھاندلی کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے کی ہے۔

ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے مینٹیٹ کا احترام کریں گے اور حکومت جیتنے والی پارٹی کو باخوشی سونپ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور پارلیمان اپنی مددت پوری کرے گی۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ستر کی دہائی سے اب یہ پہلا موقعہ ہے جب پارلیمان اپنی مددت پوری کررہی ہے۔

انہوں نے کراچی میں ریاست کے ناکام ہونے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی  میں حالت حکومت کو دوسرے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیئے خراب کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی فورسز پر زور دیا کہ وہ پی پی پی کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پاکستان کو ایک مہذب اور خوشحال جمہوری قوم بنانے کے لئے پچیس اور پچاس سالہ منصوبہ تشکیل دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ سالہ منصوبے ملک کو بحران سے نہیں نکال سکتے۔

علاوہ ازیں صدر زرداری نے کچھ دیر کے لیے پنجابی میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا آئندہ آنے والے وقت میں وہ لاہور جاکر رہیں گے لحاضہ ابھی سے پنجابی پر عبور حاصل کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

عدالت نے وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد کردی

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِاعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

ڈیرہ غازی خان: ٹریفک حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد چودہ ہوگئی

یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کورٹ چٹھہ میں اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئی۔

خان پور: سکول وین کھائی میں گرنے سے متعدد بچے زخمی

زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے: ریسکیو ذرائع


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔