30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان میں قیدی کو پھانسی کی سزا

محمد حسین کو جمعرات کی صبح میانوالی شہر میں پھانسی دی گئی۔فائل فوٹو رائٹرز۔

اسلام آباد: پاکستان میں جمعرات کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ پھانسی کی سزا انجام دی گئی جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔

 جیل حکام عبداللہ خان نیازی کے مطابق، محمد حسین کو جمعرات کی صبح میانوالی شہر میں پھانسی دی گئی۔

 حسین، جو کہ ایک فوجی افسر تھے، کا تعلق لنگروالا پل ساہیوال تحصیل ضلع سرگودھا سے تھا۔ انہیں دو ہزار نو میں اپنے سینئر افسر حوالدار خادم حسین کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

 دو ہزار آٹھ میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ صدر آصف علی ذرداری کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اس سزا پر غیر سرکاری پابندی عائد کردی تھی جس میں ہر تین مہینے بعد اضافہ کردیا جاتا تھا۔

 تاہم نیازی نے کہا کے صدر اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے حسین کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔

 پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک افسر زمان خان نے پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

الطاف حسین کا بھی ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے کا مطالبہ

ایم کیوایم کےقائد نےمطالبہ کرتےہوئے کہاہےکہ آئینی طریقہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ غیرآئینی طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔