28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان میں قیدی کو پھانسی کی سزا

محمد حسین کو جمعرات کی صبح میانوالی شہر میں پھانسی دی گئی۔فائل فوٹو رائٹرز۔

اسلام آباد: پاکستان میں جمعرات کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ پھانسی کی سزا انجام دی گئی جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔

 جیل حکام عبداللہ خان نیازی کے مطابق، محمد حسین کو جمعرات کی صبح میانوالی شہر میں پھانسی دی گئی۔

 حسین، جو کہ ایک فوجی افسر تھے، کا تعلق لنگروالا پل ساہیوال تحصیل ضلع سرگودھا سے تھا۔ انہیں دو ہزار نو میں اپنے سینئر افسر حوالدار خادم حسین کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

 دو ہزار آٹھ میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ صدر آصف علی ذرداری کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اس سزا پر غیر سرکاری پابندی عائد کردی تھی جس میں ہر تین مہینے بعد اضافہ کردیا جاتا تھا۔

 تاہم نیازی نے کہا کے صدر اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے حسین کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔

 پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک افسر زمان خان نے پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

گوجرانوالہ: مبینہ توہین مذہب پر تین احمدی ہلاک

مشتعل ہجوم نے فیس بک پر مبینہ ’توہین آمیز مواد کی اشاعت‘ کے بعد احمدیوں کے 5 گھر نذرِ آتش کر دیے، رپورٹ۔

لوئر دیر: سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک

سرچ آپریشن کے دوران ایک گھر پر چھاپے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار جبکہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔