02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کا ملا برادر کو رہا کرنے پر غور، حکام

اس تصویر میں افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کررہے ہیں۔ تصویر بشکریہ آئی ایس پی آر

کابل: اگر طالبان کی کم اہم درجے کے رہنماوں کی رہائی کے بعد امن کی کوششیں آگے بڑھتی ہیں تو پاکستان افغان طالبان کے دوسرے اہم کمانڈر، ملا عبدالغنی برادر کو رہا کرنے پر غور کرسکتا ہے۔

 یہ بات جمعرات کے روز پاکستان اور افغانستان کے آفیشلز نے خبررساں ادارے رائٹرز بتائی۔

اسلام آباد اور کابل کے درمیان قریبی مذاکرات کے بعد ایک سینیئر افغان آفیشل نے بتایا کہ تیرہ طالبان کو رہا کرنے کے بعد، پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان اقدامات سے امن کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو وہ ملا برادر کو رہا کردے گا۔

افغانستان پاکستان پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو رہا کرے تاکہ امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے۔

پاکستان نے گزشتہ دو دنوں میں درمیانے درجے کے طالبان کو رہا کیا ہے۔

لیکن برادر جیسے اہم رہنما کو رہا کرنے کے لئے پاکستان پر دباو بڑھ رہا ہے کیونکہ دوہزار چودہ کے اختتام تک نیٹو افواج کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔

 دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہم افسر نے کہا ہے کہ اگر درمیانے درجے کے طالبان کی رہائی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں تو ملا برادر کو رہا کیا جاسکتا ہے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔