25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پارلیمنٹ ناکام ہوچکی، رحمان ملک

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک۔ فائل فوٹو اے ہی پی

اسلام آباد: وزیر داخلہ رحمان ملک نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران کراچی میں موٹر سائیکل کی پابندی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو نا کام قرار دیا ہے۔

جمعہ کو اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'سندھ ہائیکورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن پابندی کا فیصلہ درست تھا'۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں موٹر سائیکل ہی استعمال کی گئی ہے کیونکہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حمل اور مواد کی ترسیل آسانی سے ہوجاتی ہے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے محرم کے دوران کارروائی کا منصوبہ بنارکھا ہے لیکن وہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور عوام کے تحفظ کے لئے جو کچھ بن پڑا کریں گے۔

دوسری جانب، موٹر سائیکل پر پابندی کے فیصلے پر حکومتی ارکان ناخوش نظر آئے۔

سینیٹر رضاربانی نے فیصلے کو غیر دانش مندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کراچی میں لاکھوں افراد متاثر ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ناکام نہیں اور وہ کمزور قوانین پر مہر نہیں لگاسکتی۔

سینیٹر بابر اعوان نے پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک نے آرٹیکل ایک سو اڑتالیس کا غلط استعمال کیا ہے۔

اس دوران جمعیت علمائے اسلام نے کراچی کی صورتحال پر سینیٹ سے واک آؤٹ کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کراچی کے حالات کو سدھار نے میں سنجیدہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کراچی میں اپنی رٹ بھی کھوچکی ہے اور شہر کی صورت حال پر جمعیت علمائے اسلام نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آج صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگا دی گئی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ معطل کردیا تھا۔

اس حصے سے مزید

کراچی: بم دھماکے میں انسپکٹر شفیق تنولی سمیت چار ہلاک

دھماکہ پرانی سبزی منڈی کے قریب ہوا، جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

'لاپتہ بلوچ افراد پر پروگرام سے آئی ایس آئی ناراض تھی'

ممتاز صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی سیکیورٹی کے متعلق سخت فکر مند ہیں۔

ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شامل

رؤف صدیقی کو وزیرِ صنعت اور ڈاکٹر صغیر کو وزارتِ صحت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

تھری جی: اسکیل، رفتار اور بھروسے کا سوال

دیکھا جائے تو یہ سارا بکھیڑا بنیادی طور پر صرف ساٹھ لاکھ صارفین کے لئے ہے-

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

کیپٹن امیریکہ: دی ونٹر سولجر -- ایک اور سیکوئل

ایک لازمی سیکوئل ہونے کے ناطے، فلم کو دلکش، سادہ اور قابل قبول ہونے کی نیت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں