01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

قبائلی علاقوں میں بم دھماکوں سے پانچ افراد ہلاک

شمالی وزیرستان میں ریموٹ کنٹرول حملے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک ، سات زخمی۔ فائل تصویر

پشاور میرانشاہ:افغان سرحمد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سڑک کنارے نصب کیے گئے دو علیحدہ بم دھماکوں میں پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق شمالی وزیرستان کےعلاقے میرعلی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس دو اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا کانوائے میرعلی میں معمول کے گشت پر تھاکہ روڈ کےقریب نصب بم پھٹ گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھاکہ دو اہلکار موقع پر ہی لقمہ اجل بن گئے۔

 دھماکےمیں سات اہلکارزخمی بھی ہوئےجنہیں فوری طورپر اسپتال منتقل کردیاگیا، جہاں ان کی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔

سیکیورٹی فورسز ذرائع کا کہناہےکہ دھماکہ ریموٹ کنڑول کےذریعے کیاگیا۔ فورسزنے علاقے کوگھیرےمیں لیکردہشتگردوں کی تلاش شروع کردی ہے۔

ڈان سے گفتگو کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان کے جنداللہ گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اسے ڈرون حملے میں مرنے  والے کمانڈر احمد بنگالی کی ہلاکت کا ردِ عمل قرار دیا۔

دریں اثنا سینئر مقامی افسر شین قمر کے مطابق اتوار کو خیبر کے قبائلی علاقے شن قمر میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے تین مزدور ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مزدور گدھے پر تعمیراتی سامان لے کر جا رہے تھے کہ دھماکہ ہو گیا، انٹیلی جنس ذرائع نے بھی حادثے کی تصدیق کی ہے۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

کوہاٹ : ایک ہی خاندان کے 5 افراد قتل

نامعلوم افراد نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں میاں، بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہلاک ہوگیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

mohammad jehangir
18 نومبر, 2012 10:25
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔طالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں.اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی .صلح جوئی کی پالیسی نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں، خصوصاً مذہبی حلقوں کوچاہئے کہ وہ قبائلی علاقوں میں موجود تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح تحریکوں سے بات چیت کرکے انہیں پاکستانی ریاست کی عمل داری قبول کرنے کے لئے آمادہ کریں اور یہ کہ وہ اپنے مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کو پاکستان کے قانون کے دائرے میں آگے بڑھائیں کیونکہ ان تنظیموں کا موجودہ رویہ بھی پاکستان کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی نفی کرتا ہے۔ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔ ارشاد باری ہے ‘‘ انسانی جان کو ہلاک نہ کرو، جسے خدا نے حرام قرار دیا ہے’’۔ (بنی اسرائیل 33 قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت گری کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا اور مسلح افواج پر حملے کرنا اور حکومت وقت کے خلاف مسلح بغاوت کرنا،حکومت چاہے کیسی بھی ہو، نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ روح اسلام کے خلاف گناہ عظیم ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. ................................................................. اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : کراچی میں فرقہ ورانہ دہشت گردی http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔