23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: دو دھماکوں میں دو افراد ہلاک، متعدد زخمی

کراچی میں اورنگی ٹاون نمبر پانچ میں واقعہ امام بارگاہ حیدر کرار پر اکیس نومبر کو ہونے والے دہرے بم دھماکوں کے بعد سیکیورٹی اہلکار چوکس کھڑے ہیں۔ پی پی آئی تصویر

کراچی:  اورنگی ٹاون کے میں واقع ایک امام بارگاہ کے قریب ایک گھنٹے کے وقفے سے ہونے والے دو دھماکوں میں دو افراد ہلاک اورکئ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق اورنگی ٹاون پانچ نمبر میں واقع امام بارگاہ حیدرِ کرار کے پاس ایک  دھماکے میں متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سانحے میں ایک رکشہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی قطر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔

 اورنگی ٹاون میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کچھ پتا نہیں چل سکا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ماہرین نے جائے حادثہ کے مقام سے شواہد جمع کرنا شروع کردئیے ہیں۔

اسی مقام پر پہلے دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس میں ذیادہ تر صحافی، رپورٹر، کیمرہ مین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ہی موجود تھے۔

اس دوسرے دھماکے میں کوریج کرنے والے رپورٹر اور کیمرہ مین زخمی ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دوسرے دھماکے میں ڈان نیوز کی ڈی ایس این جی کا ڈرائیور اور ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹر بھی زخمی ہوئی ہے۔ تاہم زخمی ہونے والے افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں رینجزر اہلکار اور بچے بھی شامل ہیں۔

رہنماوں کی مذمت

صدر آصف علی زرداری، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں سمیت ملک کے سیاسی رہنماوں نے کراچی میں امام بارگاہ حیدرِ کرار کی شدید مذمت کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے واقعے کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ نو اور دس محرم کو فوج کو اسٹینڈ بائی پر رکھا ہوا ہے۔

اس حصے سے مزید

'این آر او کے تحت پندرہ سال تک مارشل لاء نافذ نہیں ہو سکتا'

شہلا رضا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ ، یواے ای اور جنرل پرویز اشفاق کیانی نےبھی اس کی گارنٹی دی تھی۔

کراچی: مائی کولاچی روڈ پر ٹرالر اور ڈمپر میں تصادم، تین زخمی

بدھ کے روز علی الصبح ہونے والی ہلکی بارش سے سڑک پر پھسلن بڑھ جانے سے ڈمپر اور ٹرالر بے قابو ہوکر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔

کراچی: لیاری سے گینگ وار کے تین ملزمان گرفتار

پولیس اور رینجرز نے مشترکہ طور پر لیاری کے علاقے کلری اور بغدادی میں آپریشن کیا، جہاں سے یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔