19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

نامور کالم نگار اردشیر کاؤس جی چل بسے

مشہور کالم نگار اردشیر کاؤس جی جو کراچی میں انتقال کر گئے۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: نامور کالم نگار اردشیر کاؤس جی طویل علالت کے بعد ہفتہ کو 86 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔

پارسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اردشیر کاؤس جی 13 اپریل 1926 میں کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1988 سے 2011 تک مستقل ڈان اخبار کیلیے ہفتہ وار کالم لکھنے کے فرائض انجام دیے، آپ کا شمار پاکستان کے انتہائی مستند اور بے باک کالم نگاروں میں کیا جاتا تھا۔

وہ گزشتہ بارہ دن سے سینے میں انفیکشن کے باعث کراچی کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ(آئی سی یو) میں زیر علاج تھے۔

وربائی جی سوپری والا پارسی ہائی اسکول اور ڈی جے سندھ گورنمنٹ کالج سے تعلیم کمل کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار شپنگ سے منسلک ہو گئے۔

کاؤس جی کے ان کی بیوی نینسی دنشا سے دو بچے ہیں، ان کی بیتی کراچی میں رہائش پذیر اور خاندانی کاروبار سے منسلک ہیں جبکہ ان کے بیٹے جو ایک آرکیٹیکٹ ہیں وہ امریکا میں مقیم ہیں۔

وہ ایک کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بزنس مین اور سماجی کارکن بھی تھے۔

اس حصے سے مزید

جامعہ کراچی میں تدرسی عمل غیر معینہ مدت کے لیے بند

یونیورسٹی کی ٹیچر سوسائٹی کا کہنا تھا کہ تدریسی عمل اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

آئین کے مسودے کی گمشدگی، وفاق اور صوبوں سے جواب طلب

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1973ء کے آئین کا اصل مسودہ قومی اسمبلی سے چوری ہوگیا تھا۔

کراچی: فائرنگ کے واقعات میں سیاسی کارکن سمیت چار افراد ہلاک

پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Dr Huma
24 نومبر, 2012 16:42
Ardhir Cawasjee was an out spoken journalist and he always kept up banner of truthfulness.I am fortunate enough to meet him once ant also by chance.We traveled in one flight sitting side by side in 2004.....He though was very reserved but talked to me with a smiling face...May God rest his soul in peace....Dr Humayun Huma.Mardan
jk67
24 نومبر, 2012 18:33
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر اب اُنہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر
G-H. Qamar Baloch
24 نومبر, 2012 23:13
The news of his passing away came to me as another cerebrated columnist left us alone to grope in unending darkness in Pakistan. He always thought and worked for Pakistan. I always looked up to his wise and considerate thought. I came to know when I was Public Relations Officer to Pakistan Defense Minister, late Mir Ali Ahmad Khan Talpur and then late Nawab Akbar Khan Bugti. May his sou rest in an eternal peace- Amen!
Farrukh J Kazi
25 نومبر, 2012 10:12
An affable,loving,truthful & honest soul has left us.So hospitable and caring was he ....especially for the Human Rights activists & environment friends who visited him in his Bath Island resort in Karachi.Though friends since early eighties , I could only meet him after long intervals ....last when he came to the Supreme Court to pursue a "Contempt" notice against him.Nature- Conservation lovers have lost a dedicated true friend ! MAY GOD REST HIS NOBLE SOUL IN PEACE . Amen . F.J.Kazi, Islamabad. Tel:92-333-5302490 & 92-51-5955334.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔