20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ملالئے عالمی مفکروں کی فہرست میں شامل

ملالہ یوسفزئی جسے اکتوبر میں تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں نے اسکول بس میں نشانہ بنایا تھا۔ فائل فوٹو۔۔۔

واشنگٹن: سوات سے تعلق رکھنے والی قومی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالئے یوسفزئی کو فارن پالسی میگزین کے دو ہزار بارہ کے سو عالمی مفکروں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر رکھا گیا۔ اس طرح وہ امریکی صدر بارک اوبامہ سے سے آگے نکل گئیں جو ساتویں نمبر پر ہیں۔

اس فہرست میں شامل دوسرے پاکستانیوں میں امریکا کے لیئے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور ان کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی اور بلاگر ثناء سلیم  شامل ہیں۔

فارن پالیسی میگزین کی یہ فہرست ہر سال جاری کی جاتی ہے جس میں دنیا بھر سے ان بڑی بڑی شخصیات کو منتخب کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے شعبوں میں جدوجہد کی اور ان کی سوچ عالمی کمیونٹی کومتاثر کرنے اور ان میں تبدیلی کا سبب بنی۔

فہرست میں میانمر کی رہنما آنگ سان سو کی بھی شامل ہیں جنہوں نے جمہوریت کی کوششوں کی پاداش میں طویل عرصہ قید میں گزارا۔ اس کے علاوہ میانمار کے سابق جنرل اور اصلاح پسند صدر تھین سین بھی فہرست میں شامل ہیں۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے بعد چھٹے نمبر پر ملالہ یوسف زئی کھڑی ہیں جہاں امریکی صدر باراک اوباما کو ملالہ یوسف زئی کے بعد جگہ ملی ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

گزشتہ سالوں میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، بیرسٹر اعتزاز احسن اور موجودہ امریکی سفیر شیری رحمان کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے۔

اس حصے سے مزید

پرویز مشرف کراچی پہنچ گئے

پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ لینڈ کرگیا جہاں ان کی آمد کے پیش نظر سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

معروف صحافی حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی

سینئر صحافی اور مایہ ناز ٹیلی ویژن اینکر پرسن حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے، حالت خطرے سے باہر۔

'دہشت گردی ختم کیے بغیر مضبوط دفاع کا قیام ناممکن'

مضبوط معیشت اور دہشت گردی ختم کیے بغیر ملکی دفاع کا قیام ناممکن ہے،وزیر اعظم کا کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (5)

حسین عبداللہ
27 نومبر, 2012 14:23
ملالہ یوسف زئی پر حملہ کے بعد ہمارے معاشرے کے لئے وہ ایک سمبل بن گئی ہے علم و دانش سکول اور کالج کی لیکن اب ڈر یہ ہے کہ حدسے زیادہ ملالہ کا ورد اور خاص کر وہ بھی یورپ اور امریکہ کی جانب سے ملالہ کو متنازعہ تو بناگیا ہے اب اللہ نہ کرے کہ پاکستانی عام آدمی کی رائے بھی تبدیل ہونہ جائے اور وہ شدت پسندوں کی سوچ سے ہم آہنگ بن جائیں کیونکہ جو یورپ اور امریکہ کا ہیرو ہوگا وہ یہاں پسندیدہ ہرگز نہیں بن سکے گا تو اب ملالہ صاحبہ عوامی ملالہ سے نکل کر سرکاری اور امریکی و یورپی ملالہ بن رہی ہے
ولی خان دومڑ ، کراچی
28 نومبر, 2012 04:08
حسین عبداللہ بھائی ملالئی یوسفزئی حقیقت میں بھی ایک مفکر ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ ، یورپ اور امریکا کی جانب سے ملالئی کی تعلیمی کاوشوں کو سراہنے کی وجہ سے انکے بارے میں عام آ دمی کی رائے بھی تبدیل ہو جا ئیگی تو ایسا نہیں ہوگا ، ویسے اس ملک میں معصوم ملالہ سے زیادہ عافیہ صدیقی اور طالبان کے ہمدرد زیادہ ہیں اب تحریک انصاف ،جماعت اسلامی والے تو اپنا کام کرتے رہینگے اور ملا ہر جمعہ کو منبر پر بیٹھ کر معصوم ملالئی کے خلاف بولتے رہیں گے۔ ان لوگوں نے تو عید کے خطبے میں بھی ملالہ کو نہیں بخشا اور عام لوگ انکی زیادہ سنتے ہیں مگر ہم اور آپ جیسے لوگ جہنو ں نے ملالہ کیلئے آنسو بہائے ہیں انکی رائے کبھی بھی نہیں بدلے گی
حسین عبداللہ
28 نومبر, 2012 07:33
آپ نے صحیح کہا دوست لیکن میں اس پس منظر میں بات کررہا ہوں کہ جو ملک کی اکثریت کو لیے ہوئے ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ ملالہ یوسفزئی کی حد سے زیادہ پرچار کرینگے تو یہ ہماری بیمار اکثریت فورا اسے سازش قراردینگے جیسے کہ اس وقت ہو رہا ہے ہمارے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ نئی نسل کی سوچ خاص کر متاثرہ شدت پسند علاقوں میں تبدیل کرسکتے تھے اور یہ بات پیش نظر رہے کہ تبدیلی کے لئے رول ماڈل سب سے اچھا راستہ ہوا کرتا ہے اور وہ رول ماڈل ملالہ جیسی ہونہار لڑکی بن چکی تھی جسے اب متنازعہ بنادیا گیا
omarfarooq
28 نومبر, 2012 18:35
malala pe hamla taalibaan ne nahi balke america ne krwa ya tha ye sb taaliban ko baDnaam krne ki sazish thi or media ne is me pura kirdaar ada kiya.......
حسین عبداللہ
29 نومبر, 2012 03:56
طالبان اور امریکہ قینچی کے دو حصے ہی تو ہیں جو ملکر کام کرتے ہیں امریکہ ٹاسک دیتا ہے طالبان پورا کرکے ذمہ داری قبول کرتے ہیں جیسے ملالہ کی ذمہ داری قبول کی اور ہزاروں واقعات کے بعد مسٹراحسان اللہ احسان میدان میں کود کر امریکی وفاداری کا اظہار کرتا ہے طالبان اب ایک پیشہ ورمجرم بن چکے ہیں یہ وہ نظریاتی طالبان نہیں رہے جو کبھی افغانستان میں ہوا کرتے تھے
مقبول ترین
بلاگ

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔