25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہم اور ہمارے ہیرو

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

ایک تو ہیرو قصے کہانیوں میں پائے جاتے ہیں جن کا کہانیوں سے باہر کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔ قصے کہانیوں سے باہر جو وجود رکھتے ہیں انکے اندر بھی کوئی نا کوئی ہیرو وجود رکھتا ہی ہے، خیالی اور حقیقت سے دور۔

لیکن حقیقی دنیا میں بھی ہیرو پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، لگن، محنت، جانفشانی، خیالات اور سوچ سے اپنے علاقے، ملک، قوم اور معاشرے  پر اثرات چھوڑے ہوتے ہیں اور کسی نا کسی طرح لوگوں کی زندگی اور رہن سہن اور سوچ پر انکے نقش  نمایاں ہوتے ہیں۔

بچہ جب گھر میں ہوتا ہے تو ماں باپ اس کے ہیرو ہوتے ہیں، اسکول پہنچتا ہے تو ٹیچر یہ جگہ لے لیتا ہے اور جیسے جیسے زندگی کے رنگ دیکھتا جاتا ہے ایسے ایسے اس کے ہیروز بھی  تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔

جب ہم بچے تھے تب تک درسی کتابوں پر دین اور ملک کے بہترین مفاد میں جھاڑو نہیں پھری تھی، اگر کوئی ہندو ہوتا یا پارسی، اگر اس نے انسانیت، تعلیم، آرٹ، ادب اور ملک کی خدمت کی ہوتی تو اسے بھی درسی کتابوں میں جگہ ملتی اور بچے بھی  اس کے کام اور فکر سے آگاہ ہوتے۔

ویسے ہمارے ہاں تو چونکہ جو بھی سرکار آئی اس نے اپنےنظریات کے مطابق کورسز تبدیل کرنے کی کوشش کی، ویسے حکمرانوں کے نظریات تو کبھی بھی نہیں رہے جو بھی نعرہ حالات کے مطابق  مناسب لگا اسی کی آڑ میں حکمرانی  کو طول دیا۔

پینسٹھ کی جنگ کے بعد ہمارے ہیرو فوجی ٹھہرے پھر جو بھی جنگ لڑی، ہاری یا جیتی نشانِ حیدر جسے بھی ملا ہمارا ہیرو ٹھہرا۔ اور پھر ہوا یہ کہ زمانہ بھی بدلتا چلا گیا۔

مجھے یاد ہے وائیوا تھرموڈائنمکس کا تھا اور ہم بیٹھے آیتیں اور دعائیں یاد کر رہے تھے کہ پاس ہونے کے لیے یہی یاد کرنا ضروری تھا۔ اور تو اور ان دنوں اگر کسی کو نوکری کے لیے انٹرویو دینا ہوتا، بھلے ہی نوکری انجنیئر یا ڈاکٹر کی ہو لیکن اسے ان ہی سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا اور کامیابی تب ہی نصیب ہوتی اگر وہ ان سوالوں کے صحیح جواب دے پاتا۔ باقی جس سبجیکٹ سے متعلق اسے نوکری درکار ہوتی اس کے بارے میں جاننا کچھ ضروری نہیں تھا۔

ہمارے ہیرو یا تو وہ بنے جنہوں نے اس سرزمیں پر حملے کیے لوٹا اور تاراج کیا یا پھر وہ جن کا اس سرزمین کی تاریخ اور تہذیب سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

پہلے تاریخ اور جغرافیہ پڑھتے تھے پھر اسے پاکستان اسٹڈیز کا نام دے کر اس میں سے سب کچھ نکال باہر کیا اور جو کچھ تھوڑا ہم اپنے بارے میں جان سکتے تھے اسے بھی غائب کردیا۔ فخر کرنے  کے لیے ہمارے پاس صرف جنگجو اور لٹیرے ہی رہ گئے۔

ادب، آرٹ، فلسفہ، فکر، سائنس، تعلیم اور انسانی خدمت سے وابستہ لوگ تو ہمارے ہیرو بن نہیں سکتے تھے۔ البتہ جو بھی اس وقت کی سرکار کو بھایا اسے قوم کا ہیرو بنانے کی کوشش ضرور کی۔ اس لیے ہمارے ہیرو بار بار بدلتے رہتے اور ہم وقتی ہیروز کے عادی بنتے گئے۔

ملک کے سب سے بڑے اعزاز اور ایوارڈ کی سفارشات بھی نوکر شاہی اس وقت کے حکمرانوں کے ساتھ مل جل کر بناتی ہے اور اس میں بھی عظیم تر قومی مفاد کو مدِنظر ضرور رکھا جاتا ہے تاکہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کوئی گزند نا پہونچے۔

پچھلے چند سالوں سے تو ایوارڈ باقاعدہ بٹتے ہیں، آپس میں، اپنے رشتے داروں، جاننے والوں اور قربانی دینے والوں میں، تھوڑے بہت جو بچ جاتے ہیں اس کے اہلِ علم اور اہلِ فن حقدار ٹھہرتے ہیں وہ بھی وہ جو اقتدار کے ایوانوں  میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ سو سب سے بڑی معراج جو اس ملک میں کسی کو ملتی ہے وہ صرف یہ اعزاز ہے۔ باقی اگر کوئی کتنا ہی بڑا لکھاری ہو، مفکر ہو، سماجی کارکن ہو، فنکار ہو، مصور ہو، گائیک کہ موسیقار اس کو اتنی ہی عزت دے سکتے ہیں، جتنی کہ ملک کے عظیم تر مفاد میں ممکن ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ یہاں با صلاحیت اور بڑے لوگوں کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں، لیکن ہماری اپنی ترجیحات ہیں۔ ہم اپنے فنکاروں کو پہچاننے کے لیے بھی باہر کی طرف دیکھتے ہیں، اگر باہر کی دنیا اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے اور اس کے فن کی قدرداں بنتی ہے تو وہ  پلک جھپکتے ہماری بھی آنکھوں کا تارہ بن جاتا ہے۔

جب تک وہ نصرت فتح علی کی طرح قوالیاں گا رہا ہوتا ہے تو ہمیں دکھائی بھی نہیں دیتا۔ جیسے ہی اسے باہر کی دنیا میں پذیرائی ملتی ہے۔ تو ہماری بھی ایلیٹ کلاس کی خواتین نصرت فتح علی کے کنسرٹ میں جانا اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتی ہیں۔

ایسا ہی باقی فنون میں بھی ہوتا ہے، لوگ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں اور پھر آسمان سے جیسے تارے اوجھل ہوجاتے ہیں ایسے وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے اوجھل ہوجاتے ہیں کہ ہمارا سب کام ایڈھاک بیسز پر ہوتا ہے۔ مستقل مزاجی تو سرے سے  ہم نے پائی ہی نہیں۔

پہلے تو اخبار اور میگزین ہوتے تھے جو کسی کو کچھ بھی بنادیتے تھے۔ اب تو چینل آگئے ہیں جو ایک ہی بریکنگ نیوز سے کسی کو کہیں بھی پہنچا سکتے ہیں۔ ایک دن کسی کو آسمان پر پہنچادیتے ہیں تو دوسرے دن اسی کو زمین پر گرا دیتے ہیں۔ بس چلے تو زمین سے بھی نیچے پہنچانے میں دیر نہیں لگاتے۔

کتنے بڑے بڑے لوگ ہم نے بھی پیدا کیے ہیں۔ اگر زندہ ہے تو کسی کی نظر بھی نہیں پڑتی لیکن کسی حادثاتی موت کا شکار ہوجائے یا ویسے ہی راہِ اجل اختیار کرے تو سارے کیمرے اس کے گھر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ اور چینلز پر اس کی بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوجاتی ہے کہ ہم نے کتنا بڑا آدمی کھو دیا اور وہ بھی اتنی دیر تک کہ جب تک دوسری اس سے بھی زیادہ اہم بریکنگ نیوز  اس کی جگہ نا لے لے۔

اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا خصوصا فیس بک پر تو اس کی عمر اور بھی کم ہے ایک پل میں ہم ایک کا رونا رو رہے ہوتے ہیں تو دوسرے پل میں دوسرے کا، صرف اسٹیٹس اور پروفائیل پکچر بدل کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے حق ادا کردیا۔

حکمران بھی رٹے رٹائے بیان جاری کردیتے ہیں اور بھائ صاحب کو تو ہر دوسرے گھنٹے بیان جاری کرنے کی عادت ہے۔ دو سے تین دن زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ اس کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔ جو زندگی بھر آپ کے لیے جیتے رہے اس کو ایسے بھول جاتے ہیں جیسے تھا ہی نہیں۔

اگر اہل اقتدار میں کوئی راہی رسائی ہے یا سمجھیں کہ بہت ہی بڑا نام تھا جو چلا گیا تو اس کے نام پر یونیورسٹی میں چیئر بن جائے گی۔ اور چیئر بننے کے جو لوازمات ہیں وہ کبھی بھی پورے نہیں ہونگے کہ فنڈز اجازت نہیں دیتے اورحکمران اپنے جیسے جاہلوں میں سے کسی کو نواز دینگے اور دو چار نئی آسامیاں پیدا کرکے دو چار اپنے جیسوں کو بھی کھپا دینگے۔ باقی تحقیق اور تحریر کے لیے تو ویسے بھی اپنے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ تو فالتو کے لوگوں کا کام ہے۔ ہمیں تو تنخواہیں پوری نہیں ہوتیں۔

تو واپس آتے ہیں اپنے ہیروز پر، ہمارے دو پڑوسی ملک ہیں ایک ہندوستان اور دوسرا ایران۔ ہندوستان میں تو اپنے ہیروز کو پوجتے ہی ہیں، انہیں نا صرف سنبھالتے ہیں، ساری دنیا کو جتلاتے ہیں کہ ان کی سرزمین پر کیسے کیسے قابلِ فخر لوگوں نے جنم لیا اور بلکہ اپنی نئی نسل کو بھی بتاتے رہتے ہیں، مختلف طریقوں سے۔ انہیں محفوظ رکھنے اور انکے کام کو اور فکر زندہ رکھنے کے لیے اپنی نئی پیڑھی تک منتقل کرتے رہے ہیں۔

ایران جو ہماری طرح اسلامی ملک ہے وہاں تو ہیرو کوئی مولوی ابھی بھی نہیں۔ ادیب، شاعر، سائنسدان، مفکر، نقاش، موسیقار، مصور  ہی انکے ہیرو ہیں۔ کسی بھی شہر کے کسی بھی چوک میں چلے جائیں جس چوک کا جو نام ہوگا چوک میں اسی کا مجسمہ لگا ہوگا۔ درسگاہیں ہوں یا انکی آخری آرامگاہ، مجسمے ہر جگہ لگے ہیں. 

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

اور تو اور کسی پارک میں بھی جائیں تو اپنے ہیروز کے مجسمے لگے ہیں اور وہ بھی صدیوں پرانے والے ہیرو نہیں جو کٹیمپوریری ہیں جو ابھی اس صدی میں، اس دہائی میں بھی موجود تھے انہیں بھی موجود پائیں گے۔ ان پر تحقیق بھی ہوتی ہے انہیں محفوظ بھی کرتے ہیں۔ ان پر کتابیں بھی چھپتی ہیں لوگ  خریدتے بھی ہیں تو پڑھتے بھی ہیں اور ان کے افکار کو اپنی زندگی کا حصہ بھی بناتے ہیں۔

 اور ہم  زیادہ سے زیادہ سال میں یاد کرینگے وہ بھی کوئی یاد دلادے تو۔ باقی چھٹی ہمیں جس کے نام پر بھی مل جائے وہ منانے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بارے میں جاننا اس کو پڑھنا اور اپنی نئی نسل تک منتقل کرنا یہ تو ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سڑکوں پر نام رکھ دیتے ہیں۔ اس سے آگے ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔

 کراچی کی میئر شپ جب جماعت والوں کے ہاتھ تھی تو انہوں نے جاتے جاتے آدھے شہر کی سڑکوں کو نام نہاد "علماء" کے نام کردیا اور اب جو بیٹھے ہیں انکی ترجیحات تو ویسے بھی کچھ اور ہی ہیں۔

 ویسے تو ہم نے سب سے زیادہ ہیرو کھلاڑیوں کو ہی بنایا جو کبھی کبھار جیت کر بھی آئے اور ہیرو بن بیٹھے تو کبھی زیرو کہ ہماری قوم ایک گیند پر خوش ہوجاتی ہے تو دوسری پر ناخوش۔ 

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

آجکل کے ہیرو تو اپنے چینلز کے اینکر پرسن ہیں، جہاں سے گذرتے ہیں تو انکا ہی دیدار نصیب ہوتا ہے۔ باقی شہر میں تو گھوڑے نصب ہیں اوپر بل بورڈز پراینکرز کو بٹھایا ہوا ہے۔ روز ٹی وی پر مرغے لڑواتے ہیں اور قوم کو محظوظ کرتے ہیں۔

 جو لوگ پہلے ریسلنگ دیکھ کر ریلیکس ہوتے تھے ان کا اب اس مرغوں کی لڑائی پر گذارہ ہے۔ باقی جو بچتے ہیں انکے لیے عامر لیاقت حسین اور اس جیسے دوسرے مشعلِ راہ بنے  ہوئے ہیں۔ ثواب کا ثواب، تفریح کی تفریح! ہمیں کیا لینا ہیرو شیرو سے اپنے لیے تو یہی کافی ہیں!


 وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

Raza
29 نومبر, 2012 20:31
Assalamu Alaikum, Khuda bux Abro, Hamaray Hiro To Ap hi hai Jo kay Asa Hiro hai jis ma Ahsas hai Garibo kay dukh samajta hai our Ham jase logo ki Awaz ban ta hai. /Lahore kay hospital ma buchay ko chohay ne buri tarah nocha Intizamai ko zarah bhi Ahsas nahi jahan marozo kay liye Asa hospital mojud nahi
شانزے
01 دسمبر, 2012 01:51
پہلے تو مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ڈآن نیوز کا ان جیسی آوازوں کو "اردو عوام" تک پہنچانے کا شکریہ جب تک اس ملک پر"مشز" (ملٹری اور ملا، شریفوں اور زرداریوں) کا قبضہ ھے یہ اپنے مفاد میں کبھی بھی جدید تعلیم کا نظام نہیں آنے دیں گے اسی میں ان کی بقا ھے اور جب تک آپ اس ملک سے مدرسہ سسٹم کا مکمل خاتمہ نہیں ھو جاتا ظالمان اور فضلوٹے ھم پر حاوی رہیں گے  
jk67
06 دسمبر, 2012 13:07
جس طرح کسی بھی انسان کا اپنے وطن ، مذہب ، قوم اور رنگ ونسل سے ایک گہرا جذباتی تعلق ہوتا ہے بالکل اسی طرح میرا بھی اپنے وطن ، مذہب ، قوم اورکلچر کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق قائم ہے....آپ سب کی طرح میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنی قوم ، اپنے مذہب اور اپنے وطن پر ناصرف فخر کروں بلکہ اس فخر کا بھرپور طریقے سے اظہار بھی کرسکوں۔ میرا خیال ہے کہ شاید انسان کا یہ ایک جبلی تقاضہ بھی ہے ....! جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھتا آیا ہوں کہ علم و دانش پر اجارہ داری کا دعویٰ کرنے والے طبقے کے لوگ مختلف زاویوں سے یہی سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ فخر کرنے کے لیے ہمارا ماضی ہی بہت ہے....چنانچہ ایک عرصے تک میں بھی اسی روش پر ہی چلتا رہا، لیکن جب مطالعہ نصابی اور اس طرز کی کتب کے دائرے سے آگے بڑھا تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔ عقل و شعور سر بہ گریباں ہوگئے .... ذہن مفلوج ہوگیا .... آسمانوں کی وسعتوں میں سر اٹھائے ہوئے درجنوں بت دیکھتے ہی دیکھتے زمیں بوس ہوگئے ۔ ذہن سوالات کی گتھیوں میں الجھتا چلا گیا ۔ سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ ہمارے اسلاف میں شامل ان لوگوں نے جن کی پرستش کی حد تک تقلید کی جاتی ہے، ہمارے لیے کوئی ایسی چیز بھی ورثے میں چھوڑی ہے، جو اس جدید ترقی یافتہ دورمیں فخر کے قابل سمجھی جاسکے ....اور اگر یہ ’’ لوگ ‘‘ واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ مشرکانہ انداز کے قصیدہ نما تذکروں میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اگر اسلاف پرستوں کے کہے کو سچ مان لیا جائے اور ان کی تقلید میں یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے اکابر علمائے دین کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ ان کے قد و کاٹھ جیسا نہ پہلے کوئی تھا، نہ آئندہ کوئی پیدا ہوسکے گا اور ہمارے روحانی بزرگوں کاتو یہ درجہ تھا کہ کائنات ان کی مٹھی میں تھی اور مشیّت ایزدی گویا ان کے اشارے کی منتظر رہتی تھی، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہم زندگی کے ہر معاملے میں غیر مسلموں کے محتاج ہیں ....؟؟؟؟ ہماری حیثیت یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے دسترخوانوں پر بچ جانے والے ٹکڑوں سے ہم اپنی معاشی ، علمی اور شعوری تشنگی دور کرنے کا سامان کرتے ہیں ....!! سوئی اور Nail Cutter سے لے کر دیو ہیکل مشینوں اور ہیوی انڈسٹریز انہی غیر مسلم اقوام سے حاصل کرنے پر مجبور ہیں جن کی سازشوں اور چیرہ دستیوں کا ہم دن رات رونا بھی روتے رہتے ہیں....!! ہر نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل بے روح دعاؤں میں ہم انہی غیر مسلم اقوام کی تباہی کی فریادیں کرتے ہیں جو ہمارے ہاں وبائی امراض کے خاتمے کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتی ہیں....!!! یہ اور ایسے دیگر سوالات کے جواب کے لیے میں نے ہر اس مرکز کے دروازے پر دستک دی جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ اس مرکز کے تحت اُمّت مسلمہ کی اجتماعی فلاح کا کام کیا جاتا ہے۔ مختلف گروہوں نے میرے سوالات کے جوابات گو کہ لفظی اعتبار سے مختلف انداز میں دیے، لیکن گہرے تفکر کے ساتھ مفہوم پر غور کیا تو سب کا جواب ایک ہی محسوس ہوا ۔ مذہبی علماء کا کہنا تھا کہ لوگ شریعت سے دور ہوگئے ہیں ، فسق وفجور میں مبتلا ہیں ....! مشائخ طریقت کی اکثریت نے یہ جواب دیا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد عرفان نفس سے غافل ہے ، زبان و دل ذکر الٰہی سے محروم ہیں....! سیاسی راہنماؤں کی سوچ یہ تھی کہ ہم نے تو بہت جدوجہد کی لیکن لوگ بدلنا ہی نہیں چاہتے، ان کے خیال میں اگر لوگوں کی بڑی تعداد ان کا ساتھ دے تو وہ ملّت کی تقدیر بدل کر رکھ دیں ۔ چندے مانگ مانگ کر خدمت خلق کا دعویٰ کرنے والوں نے شکایت کی کہ لوگ دولت پرست ہوگئے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں ، اگر لوگ ان کا ساتھ دیں تو وہ قوم کی تقدیر بدل ڈالیں ۔ قارئین کرام ....! آپ نے نوٹ کیا .... سب کی سوچ میں ایک نکتۂ مشترک موجود ہے ....یعنی .... لوگ خراب ہیں ، گم کردہ راہ ہیں ، گناہ گار ہیں ، کافروں کی پیروی کررہے ہیں ، بے عمل ہیں ، جاہل ہیں ، سست ہیں ، کٹھن راہوں سے گزرنے کی ہمت نہیں ، تعیش پسند ہیں، دنیا کے پیچھے اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں .... وغیرہ وغیرہ جبکہ حقیقت ، یا درست الفاظ میں انتہائی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے عام لوگ انتہائی مجبور اور بے کس ہیں ۔ ویسے بھی عام لوگ کسی بھی معاشرے کے ہوں ، ان کی مثال ہجوم کی سی ہوتی ہے کہ ہجوم میں چند افراد ایک جانب اچانک دوڑنا شروع کردیں تو اکثریت بے سوچے سمجھے ان کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ ہجوم میں کوئی فرد بوکھلا کر ’’ سانپ ، سانپ ‘‘ چیخنا شروع کردے تو بھگدڑ مچ جائے گی اور ممکن ہے بہت سے لوگ پیروں تلے کچلے جائیں ۔ ان مثالوں کا مقصد یہ واضح کرناہے کہ اقلیت ہی اکثریت کے لیے فکری و عملی راستے متعین کرتی ہے اور جب معاشرے کی اقلیت یعنی فکری اشرافیہ اپنے نفس کی تسکین کے لیے اپنے شوق یا اپنی ضد پوری کرنے میں مصروف ہو تو لامحالہ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنی بساط اور اپنی استعداد کے مطابق انہی راستوں پر چل پڑتی ہے۔ عام لوگوں کا حق غصب کرکے جمع کی جانے والی دولت میں سے اپنا ’’ بھتہ ‘‘ نذرانوں ، ہدیوں ، چندوں اور امداد کے نام پر وصول کرنے والی مذہبی و سیاسی اشرافیہ کے بیشتر افراد اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے تو ایسی لگژری لائف حاصل کرلیتے ہیں ، ہمارے معاشرے کا متمول ترین فرد بھی جس کا تصور نہیں کرسکتا ۔ اس کے بعد نہایت سکون اور اطمینان قلب کے ساتھ ظلم ، ناانصافی ، حق تلفی ، فکری و معاشی استحصال کی چکی کے ان گنت پاٹوں کے درمیان دن رات پسنے والے عام لوگوں کو گمراہ ، گنہگار اور جہنمی تک کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ بحر حال ! ہم بات کررہے تھے انسان کے اس جبلی تقاضے کی جس کی بناء پر وہ مجبور ہے کہ اپنے مذہب ، قوم اور ثقافت پر فخر کرے، لیکن میرے لیے وہ انتہائی اذیت ناک لمحات تھے کہ میں ایک مسلمان بھائی، اے آر رحمان کو گولڈن گلوب ایوارڈ ملنے اور آسکر ایوارڈ میں تین الگ الگ شعبوں میں نامزدگیوں پر اظہار فخر و شکر نہیں کرسکا....!!! اس حوالے سے میں کھل کراپنے قلبی جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا....!! اوّل یہ کہ ، اے آر رحمان بھارت کے شہری ہیں ، اور بھارت ہمارا ’’ ازلی دشمن ‘‘ ہے .... دوم پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے!! .... میں اس ’’اسلامی ‘‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام موسیقار و گلوکار تھے اور ان پر نازل ہونے والی کتاب ’’ زبور ‘‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔ اے آر رحمان نو مسلم ہیں !....1989ء میں ان کے پورے خاندان نے اسلام قبول کیا تھا ، پہلے ان کا نام دلیپ کمار تھا ، قبول اسلام کے بعد مسلم نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا ....اے آر رحمان کو ہمارے معاشرے کے مسلمانوں پر اس لحاظ سے برتری حاصل ہے کہ انہوں نے فکری اور ذہنی انقلاب کے بعد اسلام قبول کیا ، جبکہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں۔ کیا ہم اس قدر ظرف اور برداشت کے حامل ہیں کہ کوئی مسلمان فرد اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلے پھر ہم اسے اتنی ترقی کرنے اجازت بھی دیں کہ وہ ملک و قوم کے لیے باعث فخر بن سکے....جیساکہ ہمارے کچھ لوگ ہندوؤں کو ’’ہندو جنونی‘‘ کا لقب دیتے ہیں، ان کے ملک بھارت میں اے آررحمان کو اجازت دی گئی ۔ میرا خیال ہے کہ یہاں ترقی تو کیا ایسے کسی انتہائی اقدام کے بعد اسے چند لمحے جینے کی اجازت ملنابھی مشکل ہے .... !! یاد نہیں ! ہم نے واحدنوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا .... ؟؟؟؟؟؟ ڈاکٹر عبدالسلام جن مذہبی نظریات پر یقین رکھتے تھے ، ان نظریات سے مجھے بھی اختلاف ہے، لیکن کیا عقائد سے اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کا جامہ ہی اتار دیا جائے اور ’’درندہ نما حیوانیت‘‘ کو کھلا چھوڑ دیا جائے ....؟؟؟؟ ٭٭٭٭٭٭
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟