02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامند

پاکستان اور افغان کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان میٹنگ جاری ہے۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

اسلام آباد: پاکستان نے افغان حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان مذاکرات کو معنی خیز بنانے کیلیے مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

یہ اعلان جمعے کو پاکستانی کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کے افغان ہم منصب زلمئی رسول کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

ابھی تک متوقع طور پر رہا کیے جانے والے طالبان قیدیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے تاہم مذاکرات میں 2010 میں پکڑے جانے والے طالبان کے دوسرے اہم رہنما ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کو زیر غور نہیں لایا گیا۔

ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی آفیشل نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا کہ "ابھی تک برادر کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا"۔

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے مزید قیدی رہا کرنے، روابط کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طالبان سے القاعدہ کے تعلق کو ختم کرنے پر زور دینے کے حوالے سے رضامندی ظاہر کی ہے۔

رواں ماہ میں یہ افغانستان کے کسی اعلیٰ سطح کے وفد کا دوسرا دورہ ہے جس کا مقصد قیام امن کیلیے طالبان رہنماؤں کی رہائی یقینی بنانا ہے۔

دو ہفتے قبل پاکستان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں 9 طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

افغان حکام کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان میں قید سینئر طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا جائے تو وہ شدت پسندوں کو مذاکرات کیلیے رضامند کر سکتے ہیں تاکہ 2014 میں نیٹو کے افغانستان سے متوقع انخلا سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کیا جا سکے۔

رسول نے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں امید رکھتا ہوں کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ امن کیلیے اہم اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور جو کوئی بھی امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے وہ آگے آئے"۔

ایک افغان آفیشل نے ملاقات سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ رسول برادر سمیت مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

تاہم ایک سینئر پاکستانی آفیشل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تک برادر کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

آفیشل نے کہا کہ "ہم اس اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اب وہ کس حد تک اہم ہیں کیونکہ پاکستان کا ماننا ہے کہ اب شاید ان کا اتنا اثرورسوخ نہ ہو جتنا دو سال قبل کراچی میں گرفتار ہونے سے پہلے تھا"۔

اس حصے سے مزید

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے پاکستان کے خلاف بغاوت ہیں، نثار

موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے پارلیمٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔