02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامند

پاکستان اور افغان کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان میٹنگ جاری ہے۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

اسلام آباد: پاکستان نے افغان حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان مذاکرات کو معنی خیز بنانے کیلیے مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

یہ اعلان جمعے کو پاکستانی کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کے افغان ہم منصب زلمئی رسول کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

ابھی تک متوقع طور پر رہا کیے جانے والے طالبان قیدیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے تاہم مذاکرات میں 2010 میں پکڑے جانے والے طالبان کے دوسرے اہم رہنما ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کو زیر غور نہیں لایا گیا۔

ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی آفیشل نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا کہ "ابھی تک برادر کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا"۔

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے مزید قیدی رہا کرنے، روابط کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طالبان سے القاعدہ کے تعلق کو ختم کرنے پر زور دینے کے حوالے سے رضامندی ظاہر کی ہے۔

رواں ماہ میں یہ افغانستان کے کسی اعلیٰ سطح کے وفد کا دوسرا دورہ ہے جس کا مقصد قیام امن کیلیے طالبان رہنماؤں کی رہائی یقینی بنانا ہے۔

دو ہفتے قبل پاکستان اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں 9 طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

افغان حکام کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان میں قید سینئر طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا جائے تو وہ شدت پسندوں کو مذاکرات کیلیے رضامند کر سکتے ہیں تاکہ 2014 میں نیٹو کے افغانستان سے متوقع انخلا سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کیا جا سکے۔

رسول نے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں امید رکھتا ہوں کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ امن کیلیے اہم اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور جو کوئی بھی امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے وہ آگے آئے"۔

ایک افغان آفیشل نے ملاقات سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ رسول برادر سمیت مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

تاہم ایک سینئر پاکستانی آفیشل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تک برادر کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

آفیشل نے کہا کہ "ہم اس اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اب وہ کس حد تک اہم ہیں کیونکہ پاکستان کا ماننا ہے کہ اب شاید ان کا اتنا اثرورسوخ نہ ہو جتنا دو سال قبل کراچی میں گرفتار ہونے سے پہلے تھا"۔

اس حصے سے مزید

الیکشن کمیشن اراکین اسمبلی کو معطل کرنے کے اختیارات کا خواہاں

کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت 60 دنوں تک معطل کرنے کی تجویز دی ہے۔

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟