17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

حلقہ بندی: سکریٹری الیکشن کمیشن کی سیاسی پارٹیوں سے ملاقات

عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن
عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن

کراچی: حکمراں پاکستان پیلپزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن جماعتوں سمیت دس سیاسی جماعتوں کے وفود نے سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے جمعہ کے روز ملاقات کی اور مختلف امور پر اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے بات چییت کرتے ہوئے سکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں کا مقصد شہریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

اس سے پہلے سیکریٹری الیکشن سے ملاقات کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم  کے رھنما رضاہارون نے موقف اختیار کیا تھا کہ حلقہ بندیوں کا طریقہ کارآئین میں درج ہے۔ انہوں نے صرف ایک علاقے میں حلقہ بندیوں میں تبدیلی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے بھی نئی حلقہ بندیوں کی مخالفت کی اور ایک بیان میں کہا ہے کہ  اگر سپریم کورٹ کے حکم کا جوازبدامنی ہے تو کراچی سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے بشیرجان نے ملکی استحکام کے لیے کراچی میں امن ضروری قراردیا جبکہ نون لیگ کے سلیم ضیاء نے کہا کہ کراچی بارود کا پہاڑ بن چکاہے اور صاف شفاف انتخابات ہی اس شہر کو بدامنی سے نجات دلاسکتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی  سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے ایک بیان میں  سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کراچی کی ازسرنو حلقہ بندی کو خوش آئند قرار دیا۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟