02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

حلقہ بندی: سکریٹری الیکشن کمیشن کی سیاسی پارٹیوں سے ملاقات

عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن
عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن

کراچی: حکمراں پاکستان پیلپزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن جماعتوں سمیت دس سیاسی جماعتوں کے وفود نے سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے جمعہ کے روز ملاقات کی اور مختلف امور پر اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے بات چییت کرتے ہوئے سکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں کا مقصد شہریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

اس سے پہلے سیکریٹری الیکشن سے ملاقات کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم  کے رھنما رضاہارون نے موقف اختیار کیا تھا کہ حلقہ بندیوں کا طریقہ کارآئین میں درج ہے۔ انہوں نے صرف ایک علاقے میں حلقہ بندیوں میں تبدیلی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے بھی نئی حلقہ بندیوں کی مخالفت کی اور ایک بیان میں کہا ہے کہ  اگر سپریم کورٹ کے حکم کا جوازبدامنی ہے تو کراچی سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے بشیرجان نے ملکی استحکام کے لیے کراچی میں امن ضروری قراردیا جبکہ نون لیگ کے سلیم ضیاء نے کہا کہ کراچی بارود کا پہاڑ بن چکاہے اور صاف شفاف انتخابات ہی اس شہر کو بدامنی سے نجات دلاسکتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی  سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے ایک بیان میں  سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کراچی کی ازسرنو حلقہ بندی کو خوش آئند قرار دیا۔

اس حصے سے مزید

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے

کراچی: دو پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

آج صبح نامعلوم دہشت گردوں نے گشت پر مامور موٹر سائکل سوار پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔