30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

حلقہ بندی: سکریٹری الیکشن کمیشن کی سیاسی پارٹیوں سے ملاقات

عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن
عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے ملاقات پر آمد۔ – فوٹو آن لائن

کراچی: حکمراں پاکستان پیلپزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن جماعتوں سمیت دس سیاسی جماعتوں کے وفود نے سکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد سے جمعہ کے روز ملاقات کی اور مختلف امور پر اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے بات چییت کرتے ہوئے سکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں کا مقصد شہریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

اس سے پہلے سیکریٹری الیکشن سے ملاقات کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم  کے رھنما رضاہارون نے موقف اختیار کیا تھا کہ حلقہ بندیوں کا طریقہ کارآئین میں درج ہے۔ انہوں نے صرف ایک علاقے میں حلقہ بندیوں میں تبدیلی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے بھی نئی حلقہ بندیوں کی مخالفت کی اور ایک بیان میں کہا ہے کہ  اگر سپریم کورٹ کے حکم کا جوازبدامنی ہے تو کراچی سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے بشیرجان نے ملکی استحکام کے لیے کراچی میں امن ضروری قراردیا جبکہ نون لیگ کے سلیم ضیاء نے کہا کہ کراچی بارود کا پہاڑ بن چکاہے اور صاف شفاف انتخابات ہی اس شہر کو بدامنی سے نجات دلاسکتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی  سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے ایک بیان میں  سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کراچی کی ازسرنو حلقہ بندی کو خوش آئند قرار دیا۔

اس حصے سے مزید

الطاف حسین کا بھی ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے کا مطالبہ

ایم کیوایم کےقائد نےمطالبہ کرتےہوئے کہاہےکہ آئینی طریقہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ غیرآئینی طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈھائی لاکھ لاوارث قبریں

ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کردہ مواچھ گوٹھ کراچی کے قبرستان قبروں کے کتبوں پر ناموں کے بجائے نمبر درج کیے جاتے ہیں۔

کراچی: پرتشدد واقعات میں سیاسی جماعت کے کارکن سمیت 4 ہلاک

شہر رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے باوجود فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔