18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

جعلی انتخابی فہرستوں سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان۔ —فائل تصویر
سپریم کورٹ آف پاکستان۔ —فائل تصویر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جعلی انتخابی فہرستوں سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنادیا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کراچی میں فوج اور ایف سی کی نگرانی میں گھر گھر جاکر انتخابی فہرستیں درست کی جائیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سنایا۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کی مرضی کے بغیر کسی شہری کا ووٹ دوسرے علاقے یا شہر منتقل نہ کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق کسی بھی شہری کیا پتہ منتقل کرنے کیلئے اس کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ شہریوں کا صوابدیدی حق ہے کہ وہ جہاں چاہیں ووٹ دیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن فوج، ایف سی اور رینجرز کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی درستگی کرائے۔

عدالت نے مزید کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

واضع رہے کہ عمران خان کے علاوہ پیپلزپارٹی کی سابق چیئرپرسن بینظیربھٹو کی طرف سے انتخابی فہرستوں کی درستگی کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فارم کا مینیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

حسین عبداللہ
05 دسمبر, 2012 15:18
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ عدالت کنوینس ہوئی کہ کراچی میں وٹرلیسٹوں میں کچھ خرابی ہے لیکن کیا سپریم کورٹ بدامنی کیس کی طرح اس کو بھی گومگو کی کیفیت میں ڈال دے گی یاپھر کچھ کلئیر کرے گی کیونکہ وہی سیاسی جماعت کی آڑ میں مافیا پھر سے آڑے آئے گا جو بدامنی کیس میں آیا
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔