03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سی این جی قیمتوں میں اضافے کی درخواست مسترد

سی این جی اسٹیشن۔ فائل فوٹو آن لائن
سی این جی اسٹیشن۔ فائل فوٹو آن لائن

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سی این جی مالکان کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی درخواست مسترد کردی۔

اس کے علاوہ عدالت نے سی این جی سٹیشنز کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کرلیں ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل عدالت عظمٰی کے دو رکنی بینچ نے سی این جی قیمتوں سے متعلق کیس  کی سماعت کی۔

اوگرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے آج دلائل دیے۔

دوران سماعت، جسٹس جواد ایس خواجہ نے ان سے استفسار کیا کہ عدالت کو تین ہزار، تین سو پچانوے سی این جی اسٹیشنز کا ٹیرف پیش کیا جائے کیونکہ لائسنس کے بغیر سی این جی فروخت نہیں کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے سی این جی نرخوں کے نئے فارمولے کو بھی عدالت نے مسترد کردیا۔

سماعت کے دوران اوگرا نے دیگر سفارشات اور وزارت پیٹرولیم کے کردار سے متعلق بھی عدالت کو آگاہ کیا۔

دریں اثناء عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، اور یہاں سے پندرہ سال تک دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔