25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نصیر الدین شاہ، فیض اور غالب

faiz-ahmed-faiz-300
تصویر بشکریہ شبنم گِل

لاہور: بالی وڈ فنکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ وہ عظیم شاعر فیض احمد فیض سے پہلی بار اس وقت روشناس ہوئے جب وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے۔

منگل کو انسانی حقوق کمیشن کے دراب پٹیل آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران انہوں نے بتایا کہ فیض سے ان کا پہلا تعارف فلم 'جانور' کے ذریعے ہوا جس میں شمی کپور ان کے شعر 'رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی' گنگنا رہے تھے ۔

فیض کے پوتے اور اداکارعدیل ہاشمی کی میزبانی میں ہونے والی اس تقریب میں نصیرالدین شاہ نے حاضرین کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

تقریب کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بالی وڈ اداکار نے کہا کہ مستقبل میں فیض کا کردار ادا کرنا چاہیں گے۔

نصیر الدین شاہ نے بتایا کہ غالب کی تصاویر، جسمانی خدو خال اور لب و لہجہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کردار ادا کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔

'تاہم فیض کی تصاویر اور وڈیوز کی موجودگی میں ان کا کردار نبھانے کی کچھ حدود ہوں گی'۔

ایک اور سوال کے جواب میں بالی وڈ اداکار نے بتایا کہ انہوں نے 'مرزا غالب' کے لیے ان کی شخصیت پر تحقیق کے ساتھ ساتھ ان کے پوٹریٹس سے بھی مدد لی تھی۔

نصیر الدین شاہ کے  مطابق انہوں نے بلیمران کے علاقے میں موجود غالب کی اُس رہائش گاہ کا بھی دورہ کیا تھا جہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے تھے اور جو اب خستہ حالت میں ہے۔

مہمان فنکار کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے غالب کی شخصیت کو سمجھنا آسان نہیں کیوں کہ انہیں سمجھنے کے لیے سات زندگیاں درکار ہوں گی'۔

نصیر الدین شاہ نے اپنے فنی سفر کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اداکاری کا آغاز سنجیدہ سینیما سے کیا لیکن بعد میں پاپولر سینیما کی طرف چلے گئے کیونکہ وہ مشہور اداکار بننا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ مشہور اداکار نہیں بننا چاہتا تو وہ جھوٹ بولتا ہے'۔

نصیر الدین شاہ نے فلموں کی ہدایت کاری کو مشکل کام قرار دیتے ہوئے ازراہ مذاق کہا  کہ ' برُی فلم بنانا اس سے بھی مشکل کام ہے'۔

انہوں نے تھیٹر کی ہدایت کاری کو اپنے دل کے زیادہ قریب قرار دیا۔

عصمت چغتائی کے ڈراموں میں اداکاری کے لیے لاہور میں موجود بالی وڈ اداکار نے بتایا کہ چغتائی جیسے کلاسک ادیبوں کے شاہکاروں کو فلمی شکل نہیں دی جا سکتی ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے چغتائی کے ڈراموں کو تھیٹر پر کیوں پیش کیا تو بالی وڈ اداکار نے بتایا کہ 1979 میں فلم 'جنون' کی شوٹنگ کے دوران ان کی چغتائی سے ملاقات ہوئی تھی۔

'چغتائی باتونی تھیں، گپ شپ کرنا انہیں بہت پسند تھا اور میں نے چغتائی کے کہنے پر ہی منٹو اور منشی پریم چند کو پڑھا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ برصغیر کا قیمتی ادب اسکول سلیبس کا حصہ نہیں بنایا جاتا جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے اسکولوں میں شیکسپیئر کو تو پڑھنا لازمی ہے  لیکن غالب کو نہیں۔

جب نصیر الدین شاہ سے پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں عریانی کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کے لیے برہنہ خاتون عریانی ہو گی، لیکن ان کے لیے خشک پودوں کو پانی نہ دینا، بھوکے بلی کے بچوں کو کھانا نہ دینا بھی عریانی کی زمرے میں آتا ہے۔

' فلم یا تھیٹر میں ہر وہ کام جو پیش کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو اسے عریانی کہا جا سکتا ہے'۔

متعدد بار لاہور کا دورہ کرنے والے بالی وڈ اداکار نے بتایا کہ ہندوستان کا شہر پٹیالہ اور ان کے بچپن کا دہلی انہیں لاہور کی یاد دلاتا ہے۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟