02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کالا باغ ڈیم کیخلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں منظور

سندھ اسمبلی۔ فائل فوٹو
سندھ اسمبلی۔ فائل فوٹو

کراچی: سندھ اسمبلی نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے۔

 جمعے کو اجلاس اسپیکر نثار کھوڑو کی صدارت میں مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔

 ارکان نے ڈیم کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کا معاملہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

 ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم سے سندھ کی زمینیں بنجر اور شہر ویران ہوجائیں گے۔

 اس دوران وقفہ سوالات بھی قرارداد پیش کر کے معطل کردیا گیا۔ سندھ کے وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک پیپلزپارٹی کا ایک بھی رکن زندہ ہے کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا۔

 سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ 'اگر کسی میں دم ہے تو کالاباغ ڈیم بناکر دکھائے'

 مذمتی قراردار کی منظوری کے بعد اجلاس غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

 واضح رہے کہ گزشتہ روز کالاباغ ڈیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تھی۔

 اس موقع پر ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ ڈیم کی حمایت کرنے والے ڈیم کے مخالف تین صوبوں کے نمائندوں کو جاہل سمجھتے ہیں

 دوسری جانب شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنی ڈومین سے ہٹ کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: رینجرز کی کارروائی، گینگ وار کے چار ملزمان ہلاک

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مشتبہ افراد نے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی تھی۔

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟