02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: فائرنگ کے واقعات میں مزید سات افراد ہلاک

۔ فائل تصویر
۔ فائل تصویر

کراچی: کراچی میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں مزید سات افراد ہلاک ہوگئے۔

 جمعے کو شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن صابری چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ناصر جبکہ قائدآباد کے علاقے میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

 گلشن معمار کے علاقے جنجھار گوٹھ میں جہانزیب نامی شخص کو گولیوں کا نشانہ بناکر ہلاک کردیا گیا۔

 اس سے قبل گارڈن کے علاقے میں رکشہ سے تین افراد کی لاشیں ملیں جنہیں اغوا کے بعد گولیاں ماری گئی تھیں۔

 پولیس کے مطابق یہ رکشہ ایک روز قبل نبی بخش کے علاقے سے چھینا گیاتھا تاہم تینوں مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی۔ منگھو پیر میں بھی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

 فائرنگ کے دیگر واقعات میں کلفٹن، کورنگی اور کٹی پہاڑی کے علاقوں میں چار افراد زخمی بھی ہوگئے۔

اس حصے سے مزید

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے

کراچی: دو پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

آج صبح نامعلوم دہشت گردوں نے گشت پر مامور موٹر سائکل سوار پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔