03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاک فوج نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام مسترد کردیا

A soldier from Pakistan's security forces stands guard on the Khyber Pass on the outskirts of Peshawar
۔ — فائل فوٹو

اسلام آباد: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نےاپنی ایک رپورٹ میں پاکستان فوج پر افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے تاہم پاک فوج نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق پاک فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ اور پاکستانی فوج کیخلاف پراپیگنڈہ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج کو ان علاقوں میں  نئے سیکیورٹی قوانین اور نو آبادیاتی دور کے نظام کی وجہ سے ‘کُھلی چھوٹ’ حاصل ہے۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ انصاف فراہم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔

رپورٹ میں شدت پسندوں، سرکاری حکام، وکلا، عینی شاہدین، زیادتی کا نشانہ بننے والے افراد اور ان کے اہل خانہ سے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان فوج نے زبردستی ہزاروں افراد کو لمبے عرصے سے حراست میں رکھا ہوا ہے اور انہیں قانون تک انتہائی محدود رسائی دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے مزید کہا کہ بعض اوقات ان زیر حراست افراد کو نہ تو عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو کچھ بتایا جاتا ہے۔

ایمنسٹی ایشیا - پسیفک کی ڈائریکٹر پولی ٹریسکوٹ نے کہا کہ 'تقریباً ہر ہفتے ہی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں کی لاشیں یا تو ان کے اہل خانہ کو واپس کی جا رہی ہیں یا پھر انہیں قبائلی علاقوں میں پھینکا جا رہا ہے'۔

انہوں نے پاکستان حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد قبائلی علاقوں میں خامیوں سے بھرے ہوئے اُن قوانین میں اصلاحات لائے جو تشدد میں مستقل اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

ایمنسٹی کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ ججوں نے لاپتہ افراد کے معاملے کی چھان بین کی ہے لیکن اب تک کسی بھی فوجی  اہلکار کے خلاف تشدد، جبری گمشدگیوں او دوران حراست ہلاکتوں کے الزامات پر عدالتی کارروائی نہیں کی گئی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ 2011 میں فوج کو بلا امتیاز گرفتاریاں کرنے اور حراست میں رکھنے کے جو اختیارات دیے گئے تھے، انہیں واپس لیا جائے۔

ایمنسٹی نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں اور پارلیمنٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ نائن الیون واقعے کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی سے  پینتیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ کہ اس کی فوج کئی سالوں سے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر فوجی حکام نے رپورٹ میں کیے گئے دعوں پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل رپورٹ پڑھنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

ایمنسٹی نے اپنی اس رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور مبینہ جاسوسوں کو ہلاک کرنے پر طالبان اور دوسرے شدت پسند گروہوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی اردو کے  مطابق، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کے پکڑے جانے والے اہلکاروں کو بے رحمی سے ہلاک کرتے ہیں۔

ایمنسٹی نے طالبان اور دوسرے عسکریت پسند گرہوں کو پاکستانی سماج کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے جو شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں وہاں لوگ غیر قانونی طور پر ہلاک کیے جا رہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

آپریشن ضرب عضب: اب تک 910 مبینہ دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے 82 جوان اس آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

مراد
15 دسمبر, 2012 16:59
یہ بالکل سچ ہے کہ پاک فوج اکثر علاقوں ظلم و زیادتی سے کام لیتی ہے ماوراء عدالت قتل کرتی ہے۔نیز انساف نام کی کوئی چیز نہیں ان میں۔اگر انکو کوئی کام یا قتل یا سزا اچھی لگے تو بس وہی کرتے ہیں کسی قانون کو نہیں مانتے ،بس خواہشات کی پیروی۔ بے گناہ لوگوں پر گولہ باریاں اور لوگوں کو بے گھر کرنا ، لوگوں پر غلط اور فحش الزامات لگانا انکا وطیرہ رہا ہے۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔