02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی اے ایف بیس، پشاور کی سرگرمیاں بحال، ترجمان

پاکستانی عسکری اداروں کی اہلکار جائے وقوعہ پر۔ – اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: ہفتے کی رات کو عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اب پاک فضائیہ کی پشاور ایئربیس پر معمولات بحال ہوگئے ہیں۔

  اتوار کی صح پاکستان ایئرفورس کے ترجمان نے کہا کہ دہشگردوں کی جانب سے حملہ ناکام بنائے جانے کے بعد اب ایئرفورس بیس مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور معمول کے آپریشنز بھی جاری ہیں۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں نے پی اے ایف بیس پشاور پر رات آٹھ بج کر پینتیس منٹ پر حملہ کیا اور آبدارہ گاوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔ آپریشن کو رات کے دو بجے کامیابی سے ختم کردیا گیا۔

دہشتگردوں راکٹوں اور خودکش حملہ آوروں کے ذریعے تین اطراف سے حملہ کیا اور بیرونی دیوار کو جزوی نقصان ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز اس وقت مکمل الرٹ تھیں۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملے کو ناکام بنادیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ دہشتگرد، اسلحے بارود اور خودکار ہتھیاروں سے لیس دو گاڑیوں میں سوار تھے۔ ایک گاڑی تباہ کردی گئی اور ایک تباہ ہوئی۔

حملے میں پانچ دہشتگرد مارے گئے اور تین خودکش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ ہفتہ کی شب پشاور ائیرپورٹ پر حملے  میں دہشت گردوں سمیت نو افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کارروائی میں پانچ دہشگرد بھی مارے گئے ۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت کا انتہائی اہم علاقہ  رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اچانک دہشت گردی کا نشانہ بنا۔ غیر مصدقہ ذرائع کیمطابق نامعلوم افراد نے علاقہ غیر سے تین راکٹ فائر کئے۔ ایک راکٹ اولڈ باڑا روڈ پر گرا اور بقیہ دو ہوائی اڈے کے قریب۔

ڈان اخبار کے مطابق دہشت گردوں کا اصل ہدف باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان ایئرفورس اور اس کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔

 ایئرپورٹ اور اس سے ملحقہ علاقہ راکٹ حملوں اور فائرنگ سے کئی گھنٹوں تک گونجتا رہا۔

اس کے ساتھ ہی  آس پاس فائرنگ شروع ہوگئی۔ حکام نے فوراً ہی ایئر پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں نے پوزیشن سنبھال لی۔ پولیس نے ہوائی اڈے کی جانب جانے والے تمام راستے سیل کردئے ہیں۔

ایئرپورٹ پر پانچ راکٹ فائر کئے گئے جن میں دو ہوائی اڈے کی حدود میں گرے۔ اسی مقام پر آرمی ایوی ایشن اور پاک فضائیہ بیس ہے جسے قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سول ایوی ایشن کے ایک ترجمان کے مطابق پشاور ایرپورٹ پر راکٹ حملے میں ائیرپورٹ ٹرمینل بلڈنگ اور رن وے محفوظ رہا ہے تاہم پشاور آنے والی تمام پروازوں کو اسلام آباد اتارا گیا۔

  حملے میں زخمی ہونےوالوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ اسپتال اور دیگر اسپتالوں میںمنتقل کیا گیا ہے۔ یہ افراد بارودی مواد پھٹنے، شیشے ٹوٹنے اور ہوئی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

تمام اسپتالوں اور ان کے گردونواح  میں سیکیورٹی انتطامات انتہائی سخت کردیئے گئے ہیں اور صرف ڈاکٹرز اور طبی عملے کو اندر جانے کی اجازت دی گئ۔

ایک سیکیورٹی آفیشل نے بتایا کہ نہ صرف خودکش جیکٹ ناکارہ بنائی گئی ہیں بلکہ دستی بم بھی برآمد کئے گئے ہیں۔

خیبرپختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا نمائیندوں کو بتایا کہ عسکریت پسند عمارت میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن وہ ناکام رہے۔ ان کے مطابق تین راکٹ ایئرفیلڈ پرفائر کئے گئے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مرنے والے دہشتگردوں سے تین خودکش جیکٹ بھی اُتاری گئی ہیں اور بارود سے بھرے تین بیگ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق عسکریت پسند بیس میں گھسنا چاہتے تھے لیکن ان کی اس کارروائی کو ناکام بنادیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر حاضر اور چوکنا تھیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان ایئرفورس کی بیس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ٹی ٹی پی کا اعتراف

حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ پاک فضائیہ کی بیس ہی ان کا ہدف تھا۔ ترجمان کے مطابق اس حملے میں دس عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔ تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے صحافیوں کو بتایا، " ایئر فورس بیس ہمارا ٹارگٹ تھی۔

احسان نے یہ بھی کہا کہ تمام دس عسکریت پسند خودکش حملہ آور تھے۔ ان میں سے پانچ ایئربیس میں گُھسنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں دوعام شہری ہیں جبکہ تمام زخمی بھی عام شہری ہی ہیں۔

"

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔