24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

سی این جی قیمتیں برقرار رکھنے کی ہدایت

سپریم کورٹ -- فائل تصویر.
سپریم کورٹ -- فائل تصویر.

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بیس دسمبر تک سی این جی کی موجودہ قیمت برقرار رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ 

 عدالت نے آئندہ سماعت پر ای سی سی اجلاس کا فیصلہ پیش کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔

 پیر کو جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

 سماعت کے دوران اوگرا نے عدالت کو سی این جی ایسوسی ایشن کیساتھ مزاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔

 اس موقع پر اوگرا کی طرف سے سی این جی قیمتوں کا فارمولا بھی پیش کیا گیا جس کے مطابق ریجن ون میں 74 روپے اور ریجن ٹو میں 65 روپے فی کلو فروخت کی تجویز دی گئی۔

 اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ قیمتوں کاتعین کس طرح کیا گیا ہے۔

 دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت قیمتوں کاتعین نہیں کرے گی البتہ عوام متاثر ہوں گے تو عدلیہ کی جانب سے مداخلت ہوگی۔

 جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ جن کا یہ کام ہے وہ نہیں کررہے  جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے۔۔

 انکے مطابق، بیس روپے کی چیز بیانوے روپے میں فروخت ہورہی ہے۔۔

 دوران سماعت اوگرا کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قیمت کے تعین کامعاملہ کل کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوگا جس پر جسٹس خلجی نے کہا معلوم کریں کل کابینہ کااجلاس ہوبھی رہا ہے کہ نہیں۔

 انکا کہنا تھا کہ عوام مشکل میں ہیں اور کابینہ آرام کر رہی ہے۔

 

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-