19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

تبدیلی کا خواب اور تبدیلی پسند

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

تبدیلی کے خواب تو سب ہی دیکھتے ہیں۔ اپنی قوم، سماج، تعلیم، ترقی اورحالات میں تبدیلی کے خواب دیکھے بھی جاتے ہیں اور دکھائے بھی جاتے ہیں۔  اب توبجلی، پانی، گیس، پیٹرول، روزگار اور انسان کی بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ لیکن پھر بھی تبدیلی کا خواب دکھانے والوں کی ہر طرف بھرمار ہے۔

ایک وہ ہیں جنہوں نے پہلے بھی جو خواب قوم کو دکھائے اور اقتدار میں آتے ہی اس کی تعبیر بھی خود ہی پائی اور پھر پانچ سال اقتدار سے باہر رہنے کے بعد، قوم کے لیے نئے خواب لے کر میدان میں اتر رہے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جنہیں فخر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اقتدار کی مُدّت پوری کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بھی جو خواب قوم کو دکھائے تھے۔ وہ خود تو پورے کیے ہی اب قوم کے لیے پھر سے نئے خواب بُن رہے ہیں اور ستائیس دسمبر کو قوم کو پھر سے نئے خواب دکھانے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

اور وہ جو برسوں سےمسندِ اقتدار سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر تبدیلی کا حصہ بھی ان ہی کے حصے میں آتا ہے۔ جو ہمیشہ قوم کے خواب بیچ کر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لاتے رہے ہیں۔ اب شہر کہ جس میں تبدیلی کے وہ دعویدار تھے، اس سے نکل کر  پورے ملک میں تبدیلی کے خواب دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ویسے تو وہ خود بھی شہر کے فیوڈل لارڈ ہی ہیں، لیکن ملک سے فیوڈلزم کے خاتمے کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے۔ شہر ہے کہ بِلک رہا ہے! چیخ رہا ہے، چلّا رہا ہے۔ لیکن روز ہی خون میں نہلایا جاتا ہے۔ روز ہی شہر کے حصے بخرے ہوتے ہیں۔ جب جی چاہے بھرا پُرا شہر ویران  کردیتے ہیں۔ گلیاں راستے ایسے سنسان ہوجاتے ہیں جیسے کوئی اس شہر میں رہتا ہی نہیں۔ اور اگر دو چھینٹے بارش کے پڑجائیں تو ساری ترقی گلیوں اورسڑکوں پر قے کرتی نظر آتی ہے۔ جس شہر کے لوگ سانس بھی گِن کر لیتے ہیں، اس شہر کے  خود ساختہ والی اب خواب بھی گن پوائنٹ پر ہی دکھاتے ہیں۔

ادھر سندھ میں تبدیلی کا خواب ایک تو سندھ کے پڑھے لکھے اور روشن خیال طبقے نے دیکھا جسے اسی طبقے نے کسی نا کسی طریقے سے اہلِ اقتدار سے مل کر ہر دور میں، چاہے آمریت ہو کہ نام نہاد عوامی حکومت جو ہمیشہ، سیدوں، پیروں، میروں اور وڈیروں کے گھر کی لونڈی رہی۔ جو کبھی آمریت کا حصہ بن جاتے تو کبھی عوامی سرکار کا اور ہمیشہ انقلاب اور طبقاتی جدوجہد اور ترقی پسندی اور قوم پرستی کی ٹوپی پہننے والوں کے ساتھ سے اپنے گھروں اور زندگیوں  میں تبدیلی لاتے رہے۔ دوسرا سندھ میں تبدیلی کا خواب ہمیشہ اسٹیبلشمینٹ نے دیکھا اور اسے پورا کرنے کے لیے اس نے بہت ہی محنت بھی کی ہے اورقوم پرستوں، ترقی پسندوں اورانقلابیوں کا قبلہ ہمیشہ درست رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔

اب کے تبدیلی کا خواب دیکھا تو اس نوجوان نے جو کبھی جمیعت علماءِ پاکستان نورانی گروپ حیدرآباد کے جلوسوں سے خطاب کرتا پھرتا تھا اور اب اپنی داڑھی کو فرینچ کٹ میں تبدیل کرکے ماڈرن سندھ کے مفکر اور تبدیلی پسندوں کے اگوان بھی بن بیٹھے ہیں۔ لیکن چونکہ کاروباری آدمی ہیں، اس لیے دو پیسے کا فائدہ آڑے آجاتا ہے اس لیے تھوڑا ہاتھ روک لیا ہے۔ اب کی بار سندھ کے ووٹ پر جو رعونت سندھ کے صاحبانِ اقتدار نے دکھائی اور جس طرح اقتدار کے نشے میں اپنا آگا پیچھا سب بھول گئے۔ اس نے اسٹیبلشمینٹ کا کام اور بھی آسان کردیا ہے اور اسے اب اپنا دیرینہ خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔

ایک طرف تو کالاباغ کا جن جو ہمیشہ سوتا رہتا ہے اور وقت ضرورت اسے جگا دیا جاتا ہے کہ  پنجاب اس کے بننے کے نام پر ووٹ ڈالتا ہے اور سندھ اس کے نا بننے کے لیے اکٹھا ہوجاتا ہے۔ بننا وننا تو اس کو کبھی بھی نہیں، لیکن اس کے بغیر ان بچاروں کا گذارہ بھی نہیں۔ دوسرا  پینترا اسٹیبلشمینٹ نے اپنے ہی پالے ہوئے  شہری رکھوالوں کے  ہاتھوں مارا ہے۔ اور سندھ میں سارے ہی  قوم پرستوں، ترقی پسندوں، روشن خیالوں اور انقلابیوں اور طبقاتی جدوجہد کرنے اور خواب بیچنے والوں کو اسٹیبلشمینٹ کے پرانے ساتھی  جو ہمیشہ آمریت کو تقویت دیتے رہے ہیں ان کو اور مذہبی پارٹیوں کو ایک ساتھ ملا دیا ہے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

اب سب قوم پرست، انقلابی، ترقی پسند اور طبقاتی جدوجہد کرنے والے اور مُلا، ایک پیر کے سائے میں جمع ہوگئے ہیں۔ جتنے بھی سرخ جھنڈے تھے، وہ ہرے جھنڈوں کے درمیان کہیں گم ہو گئے ہیں۔ جتنے تبدیلی کے خواب تھے وہ ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان تو دور کی بات ہے۔ اب تو گیس، بجلی، پانی، پیٹرول بھی خواب بن گئے ہیں۔ لیکن خواب بیچنے والے اب بھی عوام کو پرانے اور گھسے پٹے خواب دکھانے کے چکر میں ہیں۔

ملک کے عوام کو طبقوں، قوموں اور فرقوں کے نام پر اکٹھا کرکے پھر اسمبلیوں میں جانے کا پروگرام ہے۔ پچھلے انتخابات  نے تو بینظیر کی قربانی لی اور پھر اس کے نام پر آنے والوں سےبھی وہی سب کچھ دہروایا گیا جو مشرف دور میں ہورہا تھا۔ چہرے بدلے اور نظام تو کوئی مائی کا لال بھی بدل نہیں سکتا۔ جو گھر کا بڑا چاہتا ہے اسی طرح گھر کا نظام چلتا ہے اور چلتارہے گا۔ باقی آنے جانے والے تو آتے جاتے رہتے ہیں۔

سندھ میں پہلے بھی ایوانِ صدر سے احکامات آتے تھے اور اب بھی احکامات وہیں سے آتے رہے۔ اسمبلی تو  پہلے بھی صرف انگوٹھا لگانے کے لیے ہوتی تھی اور اب بھی ہے۔ چاہے گریجویٹ ہونا لازمی کیوں نا ہو۔ بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ ایک دوسرے کو اگر نیچا دکھانا ہے، گالی گلوچ کرنی ہے یا بال نوچنے اور جوتے دکھانے ہیں تو اس کی اجازت ہے۔ ویسے بھی سارے قانون بنے بنائے آتے ہیں۔ چپ چاپ انگوٹھا لگادیں۔ جو قانون پاس کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ توہمیشہ پینڈنگ میں ہی رہتے ہیں کہ ان کے لیے فی الحال کوئی حکم نہیں۔  باقی اگر حکم ہے تو رات کے اندھیرے میں قانون پاس بھی ہوجاتے ہیں تو نافذ بھی۔

مشرف کے دور میں خواتین کی نشستیں بڑھائی گئیں۔ ہوا کیا کہ سب پیروں، میروں، سرداروں اور چوہدریوں کی بہو بیٹیاں اور رشتےدار اسمبلی کی نشستوں کی حقدار ٹھہریں۔ اور وہ جن کے ابا چچا پھوپھا گریجوئیٹ نہیں تھے، انہیں بھی اسمبلی میں داخلہ مل گیا اور خاندان کی سیٹ خاندان میں ہی رہی۔   اب پانچ سال گذرنے کو ہیں۔ لیکن گھریلو تشدّد کا قانون پاس کرنے کے لیے کوئی تیار ہی نہیں کہ ہماری گھر میں کیا عزت رہ جائے گی۔

ادھر سندھ اسمبلی میں ہی آمریت کی پروردہ  پارٹی کی دو خواتین ممبرز کے ساتھ بیہودہ اور نازیبا رویہ رکھنے پر سندھ میں تیس نومبر کو ہڑتال بھی کی گئی۔ لیکن جو پورے سندھ میں گھریلو تشدّد ہوتا ہے اور روز کئی عورتیں بے عزت ہوتی ہیں، ریپ ہوتی ہیں اور کاروکاری کے نام پر مار دی جاتی ہیں اس کے لیے نا ہی کوئی بولنے کے لیے تیار ہے۔ نا قانون پاس کرنے کے لیے تیار ہے اور نا ہی کسی نے کبھی ہڑتال کی ہے۔ سب مل کر نا صرف ان مجرموں کو تحفظ دیتے ہیں اور اسمبلی تک اگر بل پہنچ بھی گیا ہے تو اسے پاس بھی نہیں ہونے دیتےکہ یہ تو ہماری قومی غیرت کا سوال ہے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

لیکن تبدیلی ہے کہ آ رہی ہے۔ اگر ذرا نگاہ اوپر اٹھا کر دیکھیں تو بھٹو اور بینظیرجو شروع شروع میں تو بل بورڈز پر نظر آہی جاتے تھے۔ اب دھیرے دھیرے بل بورڈز سے بھی غائب ہو رہے ہیں۔ اور جلد ہی سالگرہ اور برسی تک محدود کردیے جائیں گے کہ ان کے نام پر کھانے والوں کو کھانے سے فرصت ملتی تو ان کے نظریے اور پیغام کا پرچار بھی کرتے۔ اورجن کے نظریے تھے وہ بھی سب بھول بھال کے ہرے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئے ہیں۔ تبدیلی کے خواب ابھی سے حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ سرخ پر سبز حاوی ہورہا ہے۔ ویسے ایک راز کی بات بتاؤں، جب سرخ اور سبز کو آپس میں کبھی ملادیں تو نتیجہ سیاہ ہی نکلتا ہے۔

اس حصے سے مزید

'سپریم کورٹ نے جمہوریت کو سہارا دینا سیکھا'

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے آئین شکنی کی روایت ختم کرکے سماجی کردار وسیع کیا۔

قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: وزیراعظم

پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ فوجی جوانوں کا پیشہ ان کی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان بل 2014 کو سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

SHAUKAT ALI KHAN
27 دسمبر, 2012 15:13
اسلام و علیکم ۔ جناب آپ اتفاق کریں گے کہ آج تک پاکستان کے عوام کے سامنے پڑھی لکھی مڈل کلاس۔ علی تجربہ کارقیادت پیش ھی نہیں کی گی ۔ جس دن ایسی قیادت مظبوطی کے ساپھ کھڑی ھو گءی ۔پاکستان کے عوام انشالله اسے بھاری اکثریت سے منتخب کریں گے ۔ آپ سے درخواست ھے کہ آپ آل پاکستان قومی اور صوباءی اسمبلیوں کے لیےامیدواروں سے فوری درخواستیں طلب کریں ۔جن کا کراءٹیریا یہ ھو- نمر١ علی قوالیفاءڈ تجربہ کار اپنے شعبہ میں ۔ نمر٢ علی تعلیم یافتہ پوزیشن ھولڑر نوجوان ۔ نمبر٣ موجودہ رولنگ الیٹ سے ھرگز ان کا تعلق نہ ھو ۔ درخواستوں کی فاءلنگ ۔ جانچ پڑتال اور ان سے مطلق سارے امور ۔ اس مقصد کے لیے میری خدمات حاضر ھیں ۔جب کہیں گے جہاں کہیں گے حاظر ھوں ۔ وسلام ۔ شوکت علی خان ۔ shaukat2017@gmail.com
مقبول ترین
بلاگ

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔