02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا'

سپریم کورٹ -- فائل تصویر.
سپریم کورٹ -- فائل تصویر.

اسلام آباد: ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے ہیں کہ اضافی دستاویزات کی مدد سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا۔

 جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کی سماعت کی۔

 سماعت کے دوران ٹیتھیان کمپنی کے وکیل خالد انور نے اپنے دلائل میں کہا کہ بی ایچ پی نے کوئی خلاف قانون کام کیا نہ ہی کسی پر دباؤ ڈال کر مشترکہ معاہدے پر دستخط کرائے۔

 انہوں نے کہا کہ مشترکہ معاہدے کی اجازت گورنر بلوچستان نے چئیرمین بی ڈی اے کو دی تھی۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اضافی دستاویزات کی مدد سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا۔

 انہوں نے سوال کیا کہ ریکوڈک معاہدے اور اضافی دستاویزات پر دستخط کرنے کی ضرورت اور بنیاد کیا تھی۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ 1993سے 2000 تک ریکوڈک معاہدے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، اتنے سال بعد معاہدے میں کیا مسائل پیدا ہوئے کہ نئی دستاویزات جاری کرنا پڑیں۔

 خالد انور نے کہا کہ حکومت کو نہیں بلکہ بی ایچ پی کو لوٹا جارہا ہے، بی ایچ پی نے لاکھوں ڈالرز خرچ کرکے معدنیات کی تلاش کی۔

اس حصے سے مزید

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے پاکستان کے خلاف بغاوت ہیں، نثار

موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے پارلیمٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔