29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا'

سپریم کورٹ -- فائل تصویر.
سپریم کورٹ -- فائل تصویر.

اسلام آباد: ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے ہیں کہ اضافی دستاویزات کی مدد سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا۔

 جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کی سماعت کی۔

 سماعت کے دوران ٹیتھیان کمپنی کے وکیل خالد انور نے اپنے دلائل میں کہا کہ بی ایچ پی نے کوئی خلاف قانون کام کیا نہ ہی کسی پر دباؤ ڈال کر مشترکہ معاہدے پر دستخط کرائے۔

 انہوں نے کہا کہ مشترکہ معاہدے کی اجازت گورنر بلوچستان نے چئیرمین بی ڈی اے کو دی تھی۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اضافی دستاویزات کی مدد سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیا گیا۔

 انہوں نے سوال کیا کہ ریکوڈک معاہدے اور اضافی دستاویزات پر دستخط کرنے کی ضرورت اور بنیاد کیا تھی۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ 1993سے 2000 تک ریکوڈک معاہدے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، اتنے سال بعد معاہدے میں کیا مسائل پیدا ہوئے کہ نئی دستاویزات جاری کرنا پڑیں۔

 خالد انور نے کہا کہ حکومت کو نہیں بلکہ بی ایچ پی کو لوٹا جارہا ہے، بی ایچ پی نے لاکھوں ڈالرز خرچ کرکے معدنیات کی تلاش کی۔

اس حصے سے مزید

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔

مضاربہ اسکینڈل: نیب کا ایک اور ریفرنس

ریفریس میں میزبان ٹریڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غلام رسول ایوب سمیت تین افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔