03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی حلقہ بندی پر پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر جنہوں نے صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: کراچی میں حلقہ بندیوں کی ایم کیو ایم کے سوا اکثر جماعتوں نے حمایت کردی ہے، الیکشن کمیشن کے ساتھ اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کی شدید مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن کراچی میں حلقہ بندیوں کے فیصلے پر قائم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی زیرصدارت کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا۔ پندرہ سیاسی جماعتوں میں سے اے این پی اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر شدید احتجاج کیا، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دباؤ کے تحت الیکشن کمیشن ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تاج حیدر نے بھی صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید براں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام سمیت بیشتر جماعتوں نے کراچی میں حلقہ بندیوں کی حمایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا  کہ ایم کیو ایم کے سوا دیگر تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں حلقہ بندیوں پر رضامند ہیں اس لئے حلقہ بندیوں پر کام شروع کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز ایک ہفتے میں جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: پولیس چوکی پر دستی بم حملہ، چار اہلکار زخمی

شاہراہِ فصل پر نرسری کے مقام پر پولیس چوکی پر دستی بم حملے سے چوکی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔