25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی حلقہ بندی پر پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر جنہوں نے صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: کراچی میں حلقہ بندیوں کی ایم کیو ایم کے سوا اکثر جماعتوں نے حمایت کردی ہے، الیکشن کمیشن کے ساتھ اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کی شدید مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن کراچی میں حلقہ بندیوں کے فیصلے پر قائم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی زیرصدارت کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا۔ پندرہ سیاسی جماعتوں میں سے اے این پی اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر شدید احتجاج کیا، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دباؤ کے تحت الیکشن کمیشن ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تاج حیدر نے بھی صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید براں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام سمیت بیشتر جماعتوں نے کراچی میں حلقہ بندیوں کی حمایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا  کہ ایم کیو ایم کے سوا دیگر تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں حلقہ بندیوں پر رضامند ہیں اس لئے حلقہ بندیوں پر کام شروع کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز ایک ہفتے میں جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

اس حصے سے مزید

کامران خان نے بھی جیونیوز چھوڑ دیا

صحافی برادری سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کامران خان عنقریب آنے والے میڈیا گروپ ’’بول‘‘ سے وابستہ ہو رہے ہیں۔

'این آر او کے تحت پندرہ سال تک مارشل لاء نافذ نہیں ہو سکتا'

شہلا رضا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ ، یواے ای اور جنرل پرویز اشفاق کیانی نےبھی اس کی گارنٹی دی تھی۔

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک

دوسری جانب گودھرا میں ایک پولیس مقابلے میں مشتبہ ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی ہلاک ہوگیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-