02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی حلقہ بندی پر پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر جنہوں نے صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: کراچی میں حلقہ بندیوں کی ایم کیو ایم کے سوا اکثر جماعتوں نے حمایت کردی ہے، الیکشن کمیشن کے ساتھ اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کی شدید مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن کراچی میں حلقہ بندیوں کے فیصلے پر قائم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی زیرصدارت کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا۔ پندرہ سیاسی جماعتوں میں سے اے این پی اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر شدید احتجاج کیا، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دباؤ کے تحت الیکشن کمیشن ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تاج حیدر نے بھی صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید براں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام سمیت بیشتر جماعتوں نے کراچی میں حلقہ بندیوں کی حمایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا  کہ ایم کیو ایم کے سوا دیگر تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں حلقہ بندیوں پر رضامند ہیں اس لئے حلقہ بندیوں پر کام شروع کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز ایک ہفتے میں جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے

'پاکستان میں حقیقی جدوجہد غریب اور اشرافیہ کے درمیان ہے'

آغا خان یونیورسٹی کے فکری مباحثے میں ماہرین نے سوال کیا کہ کیا ہمیں جمہوری فلاحی ریاست بننا چاہیے یا سیکورٹی اسٹیٹ؟


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟