21 اگست, 2014 | 24 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی حلقہ بندی پر پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر جنہوں نے صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: کراچی میں حلقہ بندیوں کی ایم کیو ایم کے سوا اکثر جماعتوں نے حمایت کردی ہے، الیکشن کمیشن کے ساتھ اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کی شدید مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن کراچی میں حلقہ بندیوں کے فیصلے پر قائم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی زیرصدارت کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا۔ پندرہ سیاسی جماعتوں میں سے اے این پی اور تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم نے صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر شدید احتجاج کیا، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دباؤ کے تحت الیکشن کمیشن ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تاج حیدر نے بھی صرف کراچی میں حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید براں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام سمیت بیشتر جماعتوں نے کراچی میں حلقہ بندیوں کی حمایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا  کہ ایم کیو ایم کے سوا دیگر تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں حلقہ بندیوں پر رضامند ہیں اس لئے حلقہ بندیوں پر کام شروع کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز ایک ہفتے میں جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی اسٹاک ایکسچینج: مندی کے رجحان میں کمی

جمعرات کو کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 400 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29 ہزار کی سطح عبور کرگیا ہے۔

سیاسی بحران نے ڈالر کو پَر لگا دیئے

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ستر پیسے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ڈالر 101روپے 10 پیسے کی قیمت کو پہنچ گیا ہے۔

سیاسی بحران سے کاروباری سرگرمیاں معطل

حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان ہونے والے کئی اجلاس اسلام آباد میں جاری دھرنوں کی وجہ سے ملتوی کیے جاچکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔

پاک سری لنکا ٹیسٹ سیریز – ایک جائزہ

امید کی جانی چاہئے کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں اپنی شکست کا بدلہ ون ڈے سیریز میں لینے کی پوری کوشش کرے گی۔

جارج اورویل کی جائے پیدائش کا دورہ

حکومت نے ان کی جائے پیدائش پرایک میوزیم کی تعمیر کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے اس عظیم لکھاری کی یاد قائم رکھی جا سکے گی۔