29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کرپشن کی وجہ غیر ملکی حکومتیں ہیں، کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی ۔ فائل فوٹو اے ایف پی۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی ۔ فائل فوٹو اے ایف پی۔

کابل: افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے انکے ملک میں بڑے پیمانے پر جاری کرپشن کا الزام انکی حکومت اور فوج کو فنڈز پہنچانے والے ممالک پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکی وجہ سے افغانستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہورہی۔

 ہفتے کو ملک کے قومی ٹیلی ویژن چینل پر نشر ہونے والے خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت ملک میں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

 انکا کہنا تھا کہ ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے تاہم اندرونی کرپشن غیر ملکی حکومتوں کے سودوں میں ہونے والی کرپشن کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

 بین الاقوامی ڈونرز کا موقف ہے کہ وہ کرزئی کی اس حوالے سے مدد کرنا چاہتے ہیں تاہم سیاسی اتحادیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

 کرزئی اکثر غیر ملکی اتحادیوں پر افغانستان کو درپیش مسائل کا الزام عائد کرتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

حقانیوں کو دوبارہ آباد نہ ہونے دیا جائے، امریکا

حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں کمی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن انہیں دوبارہ بسنے نہ دیا جائے، نمائندہ وائٹ ہاؤس

دوطرفہ سیکیورٹی معاہدہ، ملا عمر کا افغان حکمرانوں کو انتباہ

افغان طالبان کے رہنما نے کہا کہ غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہوگا کہ غیرملکی قبضہ برقرار ہے اور جنگ جاری ہے۔

افغانستان: بسوں سے اتار کر 15 افراد قتل

ایک شخص فرار ہو نے میں کامیاب ۔ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ مرد، تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔