18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاک افغان بارڈر پر سرگرمیاں بحال

۔۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔۔فائل فوٹو۔

پشاور: پاکستانی مزدوروں پر تشدد کے خلاف پاک افغان بارڈر کئی گھنٹے بند رہنے کے بعد افغان حکام کی یقین دہانی کے بعد کھول دی گئی ہے۔

 ہفتے کو افغانستان سے لوٹنے والے 29 محنت کشوں کا کہنا تھا کہ وہ مزدوری کرنے کابل گئے تھے جہاں افغان کمپنی نے نہ صرف انہیں تنخواہیں دینے سے انکارکیا بلکہ احتجاج کرنے پرتشدد کانشانہ بنایا اورپل چرخی جیل میں بند بھی کردیا۔

 مزدوروں نے الزام لگایا کہ افغان حکام نے ان کے پاسپورٹ بھی تلف کردیے۔

 متاثرہ محنت کش افغانستان سے بارڈر پرپہنچے اور خود پرہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طورخم بارڈر کوبند کردیا جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہرقسم کی آمدورفت بند ہوگئی۔

 سرحد بند ہونے کے باعث نیٹوسپلائی بھی معطل ہوگئی تھی جس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز اور افغان بارڈر حکام کے درمیان مذاکرات میں افغان حکام نے متعلقہ کمپنی کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 دوسری جانب پاکستان نے افغانستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستانی مزدوروں پر افغان فورسز کے تشدد کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

 دفتر خارجہ نے افغان سفیر سے استفسار کیا کہ پاکستانی مزدوروں کے پاس قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود ان پر تشدد کیوں کیا گیا۔

 پاکستان نے افغان حکومت سے معاملے کی فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے اقدامات بھی کئے جائیں۔

 ادھر افغانستان میں پاکستانی سفیر نے بھی افغان حکومت سے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، اہلکار ہلاک

پشاور کے نواح میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چینی سرمایہ کاروں کی خیبرپختونخواہ میں کام بند کرنے کی دھمکی

چینی سرمایہ کاروں کے نمائیندے نے الزام لگایا ہےکہ ضیاء اللہ آفریدی نامی مشیر ان کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔