18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور دھماکہ: صوبائی وزیر بشیر بلورسمیت نو افراد ہلاک

ریسکیو ورکرز جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ – اے ایف پی فوٹو

پشاور: پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کے قریب ڈھکی نعلبندی کےعلاقے میں خود کش حملے کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے۔

بشیر بلور کو شدید زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اسپتال حکام کے مطابق، صوبائی وزیر کو پیٹ اور سینے پر شدید زخم آئے تھے۔

پولیس اور اسپتال حکام نے ایک ایس ایچ او اور بشیر بلور کے سیکریٹری سمیت دیگر آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

اسکے علاوہ حملے میں اٹھارہ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہیں۔

دھماکے کا ہدف عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا اجلاس تھا جس میں پارٹی کے کئی رہنما اور کارکن شریک تھے۔

دوسری جانب ڈان ڈاٹ کام کے نمائندے سے نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بشیر بلور کی ہلاکت اور پشاور دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، اہلکار ہلاک

پشاور کے نواح میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چینی سرمایہ کاروں کی خیبرپختونخواہ میں کام بند کرنے کی دھمکی

چینی سرمایہ کاروں کے نمائیندے نے الزام لگایا ہےکہ ضیاء اللہ آفریدی نامی مشیر ان کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (6)

حسین عبد اللہ
22 دسمبر, 2012 15:38
اچھے دہشت گرد برے دہشت گرد اپنے دہشت گرد غیر ملکی دہشت گرد یہ ہیں وہ ادبیات جو ہمیں دی جارہی ہیں جب تک سانپ کو اپنا پرایا کہا جائے گا وہ ڈستا رہیگا صرف ایک حل ہے سانپ جہاں بھی ہو اس کا سرکچلا جائے بشیر بلور صاحب بہادر اور دہشت گردوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والوں میں تھے
mohammad jehangir
23 دسمبر, 2012 10:09
قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں۔ ................................................................................... اقبال جہانگیر کاتازہ بلاگ: طالبان کے حملے میں بشیر بلور شہید http://www.awazepakistan.wordpress.com
israr khan
24 دسمبر, 2012 10:02
پشاور ائرپورٹ پر منظم اور مربوط حملے نے دہشتگردی کے حلاف جاری جنگ کے بارے میں بہت زیادہ سوالات اٹھادئے هیں اور حکومت اور دفاعی اداروں/ایجنسیوں کے ان دعووں "کۂ دہشتگرد شکست کها چکے هیں اور هم نے انکی کمر توڑ دی هے" کی حیثیت پر اب لوگ سوال کرینگے ائرپورٹ پر حملۂ کرنا بڑی کاروائی هے اور اس حملے نے هماری دفاعی اداروں کی کارکردگی پر عوام کے اعتماد کو مشکوک کردیا هےکامیابی کے بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود اتنے اہم اور حساس و دفاعی اعتبار سے محفوظ جگہ پر اس طرح کا حملہ کیا پیغام دیتا هے یۂ کۂ وه لوگ زیادہ طاقتور هوچکے هیں اور کہیں بھی اور کسی بھی وقت حملہ کرسکتے هیں‎ ‎ یۂ کۂ ملکی دفاع کےادارے کمزور هیں اور وه اسطرح کےحملے روکنے میں ناکام هیں یا صلاحیت نہیں رکهتۓ دفاعی اداروں اور ایجنسیوں کو اب عوام کو مطمئن کرنا ضروری هوگیا هے اور اس لڑائی کے بارے میں پالیسی پر ازسرنو غور کرنا هوگا اسطرح کےحملوں کی وجہ سے عوام اپنے آپ کو اور غیر محفوظ سمجھنے هیں اور انکا اداروں پر اعتماد کمزور هوجاتا هےاتنی زیادہ مراعات وسائل اور تربیت کے باوجود اسطرح کے حملوں کا سدباب نا هونا تشویش سے زیادہ خطرناک بات هے‎ ‎‏ رہے نام اللۂ تعالۂ کا
israr khan
24 دسمبر, 2012 10:15
سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں نام لیکر واضح کیا هے که دو سابق جرنیل اسلم بیگ اور اسد درانی اور یونس حبیب قصور وار تھے اور یه بھی کہا هے که حکومت ان کے خلاف کاروائی کریں لیکن آج تک کسی کے خلاف کسی بھی کاروائی کا آغاز نہیں هوا هے هم خکومت سے پرزور مطالبہ کرتے هیں که فورآ انکےحلاف مقدمہ شروع کیا جائے اور جوبهی قصور وار هو سزا دی جائے سیاسی لوگوں کو تو بغیر کسی ثبوت کے ‎ ‎جیل‏ بیج دیا جاتاهے اور هر کوئی انکو ظالم چور اور غدار کہتا هے (میڈیا والے تو هر وقت سیاسی لیڈروں کے پیچھے پڑے رہتے هیں) اب اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں کو کیسے اور کب انصاف کے کٹھڑے میں لایا‎ ‎جائیگا کیا ان کیلئے الگ قانون هے کیا یه لوگ قانون سے بالاتر هےجب تک ان جرنیلوں کرنیلوں اور بڑے بڑے افسروں پر هات نہیں ڈالا جاتا تب تک عوام کا قانون اور نظام پر اعتماد بحال نہیں هوگا(جوکہ پہلے هی سے کمزورهے) قانون‎ ‎سب کیلئے برابر هونا چاہیے اور انصاف بھی‎ ‎هر ایک کا حق هے جو بھی غلط کام کرے انکو اسکی سزا ملنی چاہیے ان میں خاص و عام کی تفریق ناانصافی هوگی اور ناانصافی کے سائے میں چلنے معاشرہ اور ریاست زیادہ دیر نہیں چلتی اس سلسلے میں میڈیا کی خاموشی حیران کن هے عوام کی خواہش هے کۂ فوج اور ملکی سیاست اور دیگر معاملات میں انکی کردار کے حوالے سے ایک فیصلہ کن لکیر هونی چاہیے‎ ‎فوج کا کردار موجوده ملکی آئین کے اندر طے هو چکا هے اس پر عمل درآمد کی ضرورت هے - فوج حکومت کے تابع هے نه که حکومت فوج ایک ادارۂ هے اور هر معاملے میں حکومت کے تابع هے
israr khan
24 دسمبر, 2012 10:46
سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں نام لیکر واضح کیا هے که دو سابق جرنیل اسلم بیگ اور اسد درانی اور یونس حبیب قصور وار تھے اور یه بھی کہا هے که حکومت ان کے خلاف کاروائی کریں لیکن آج تک کسی کے خلاف کسی بھی کاروائی کا آغاز نہیں هوا هے هم خکومت سے پرزور مطالبہ کرتے هیں که فورآ انکےحلاف مقدمہ شروع کیا جائے اور جوبهی قصور وار هو سزا دی جائے سیاسی لوگوں کو تو بغیر کسی ثبوت کےجیل‏ بیج دیا جاتا هےاور هرکوئی انکو ظالم چور اور غدار کہتا هے(میڈیا والے تو هر وقت سیاسی لیڈروں کے پیچھے پڑے رہتے هیں) اب اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں کو کیسے اور کب انصاف کے کٹھڑے میں لایا جائیگا کیا ان کیلئے الگ قانون هےکیایه لوگ قانون سے بالاتر هےجب تک ان جرنیلوں کرنیلوں اور بڑے بڑے افسروں پر هات نہیں ڈالا جاتا تب تک عوام کا قانون اور نظام پر اعتماد بحال نہیں هوگا(جوکہ پہلے هی سے کمزورهے) قانون‎ ‎سب کیلئے برابر هونا چاہیے اور انصاف بھی هر ایک کا حق هے جو بھی غلط کام کرے انکو اسکی سزا ملنی چاہیے ان میں خاص و عام کی تفریق ناانصافی هوگی اور ناانصافی کے سائے میں چلنے معاشرہ اور ریاست زیادہ دیر نہیں چلتی اس سلسلے میں میڈیا کی خاموشی حیران کن هے عوام کی خواہش هے کۂ فوج اور ملکی سیاست اور دیگر معاملا ت میں فوج کاکردار موجوده ملکی آئین کے اندر طے هو چکا هے اس پر عمل درآمد کی ضرورت هے - فوج حکومت کے تابع هے نه که حکومت .فوج ایک ادارۂ هے اور هر معاملے میں حکومت کے تابع هے
khalid khan
26 اپريل, 2013 09:18
anp ki hakumat per ay gi
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔