29 جولائ, 2014 | 30 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

بشیر بلور کی وفات پر ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان

لوگ بشیر احمد بلور کے جنازے کو کاندھا دے رہے ہیں۔ – رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خیبر پختونخواہ کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی وفات پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز قومی پرچم سرنگوں رہیگا۔

صدر آصف علی زرداری سمیت ملک کے تمام نامور سیاستدانوں نے پشاور خودکش حملہ کی شدید مذمت کی اوراسکے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

بشیر بلور کا جسد خاکی اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا ہے اورانکی نماز جنازہ بروز اتوار دو بجے کرنل شیر خان اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین سید پیر حسین روڈ پر واقع انکے آبائی قبرستان میں ہوگی۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین روزہ اور عوامی نیشنل پارٹی نے دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی سندھ اور صوبائی حکومت نے ایک ایک  دن کے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے تین دن روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسکے علاوہ اے این پی بلوچستان نے  کوئٹہ میں ہڑتال اور صوبے بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

چودہ اگست سے بروغل فیسٹیول کا آغاز

چترال سے 260 کلومیٹر کے فاصلے پر بروغل کی جنت نظیر وادی سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔

لوئر دیر: سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک

سرچ آپریشن کے دوران ایک گھر پر چھاپے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار جبکہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔