25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

بشیر بلور کی وفات پر ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان

لوگ بشیر احمد بلور کے جنازے کو کاندھا دے رہے ہیں۔ – رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خیبر پختونخواہ کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی وفات پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز قومی پرچم سرنگوں رہیگا۔

صدر آصف علی زرداری سمیت ملک کے تمام نامور سیاستدانوں نے پشاور خودکش حملہ کی شدید مذمت کی اوراسکے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

بشیر بلور کا جسد خاکی اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا ہے اورانکی نماز جنازہ بروز اتوار دو بجے کرنل شیر خان اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین سید پیر حسین روڈ پر واقع انکے آبائی قبرستان میں ہوگی۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین روزہ اور عوامی نیشنل پارٹی نے دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی سندھ اور صوبائی حکومت نے ایک ایک  دن کے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے تین دن روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسکے علاوہ اے این پی بلوچستان نے  کوئٹہ میں ہڑتال اور صوبے بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایف ڈی ایم اے کو بے گھر افراد کے لیے ڈھائی ارب روپے درکار

وفاقی حکومت پہلے ہی فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے لیے دو ارب روپے جاری کرچکی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-