17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

طاہرالقادری کا حکومت کو نظام بدلنے کیلیے 3 ہفتوں کا الٹی میٹم

منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری فتح کا نشان بناتے ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

لاہور: مذہبی اسکالر اور تحریک منہاج القران کے سرابرہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ملکی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر قادری نے حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئےکہا کہ اگر نظام نہیں بدلا تو وہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارج کریں گے۔

مینار پاکستان پر عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ان کی جدوجہد سیاست کے خاتمے کیلئےنہیں اور نا ہی ان کا ایجنڈا عام انتخابات کا خاتمہ نہیں بلکہ انہیں درست کرانا ہے۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ اگر فوج نے مداخلت کی تو سیاستدانوں سے پہلے وہ آگے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی مداخلت روکنے کیلئے قانون کی حکمرانی یقینی بنانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ استحصالی، ظالمانہ اور جاگیردارانہ نظام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج لاکھوں افراد ریاست بچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

طاہر القادری نے کا کہنا تھا کہ ریاست خطرات میں گھری ہوئی ہے اور وہ سیاست پر یقین،آئین اور جمہورت کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اٹھارہ کروڑ عوام عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کےلئے کسی بھی قربانی سےدریخ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ جمہوری دور میں عدلیہ کا آزاد ہونا ریاست بچانے کیلئے بہت ضروری ہے۔

طاہرالقادری نے کہا کہ سیاست صرف سازشوں اور انتخابات جیتنے کا نام رہ گیا ہے۔

پولیس اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پولیس کی تنخواہ دگنی یا چارگنی بھی کرنا پڑے تو کریں گے۔ پولیس افسروں کو سیاستدانوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ غلط فہمی میں گولہ بارود اُٹھانے والے بھی ہمارے بیٹے ہیں اور میں ہتھیار اُٹھانے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ مذاکرات کریں۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

ڈی جی خان میں حادثہ، 13 افراد ہلاک

مخالف سمت سے آنے والی دو بسیں بس سٹینڈ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئیں جس کے نتیجے ہلاکتیں پیش آئیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (5)

حسین عبد اللہ
24 دسمبر, 2012 07:32
ڈاکٹر صاحب اب اتنے بڑی کال کے بعد واپسی اختیار کرنا معاشرے میں ہر قسم کی مثبت تبدیلی کے راستے کو روکنا ہے لہذا اب پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا آپ کو اپنا کام پورا کرنا ہوگا ورنہ عوام میں ہربے اعتمادی اور مایوسی اپنی انتہاکو پہنچ جائے گی ہر مخلص پاکستانی آپ کے ساتھ ہے لیکن آپ نے اپنی ماضی کی روایت کے برخلاف ثابت قدمی دیکھانی ہے اور ڈٹ جانا ہے ہوسکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ کچھ میڈیا بھی آپ کے خلاف خوب زہر اگلے لیکن قوم کا شعور اس سے متاثر نہیں ہوگا جبتک آپ قوم کے ساتھ سچے ہیں
Israr Muhammad
24 دسمبر, 2012 17:50
آخرچھ سال کنیڈا میںملک کی خدمت کےبعد قادری صاحب آگئے اور تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اور لاکھوں کے مجمعۂ کے سامنے اپنا پیغام عوام کو سنایا اور ساتھ هی الٹی میٹم بھی اب یہاں یۂ سوال اٹھتا هےکۂ حکومت کااس پر کیاردعمل هے کیا ملک میں تبدیلی اسطرح آسکتی هے کیا ایسا ممکن هے الیکشن سے عین پہلے اسطرح کی مطالبات کا کوئی جواز بنتا هے اگر کسی کو اس نظام میں کوئی خامی نظر آرہی هے تو کیا اس کیلئے انتخابات صحیح راستہ نہیں هے اس طرح کے کرایه کے جلسوں سے تبدیلی ممکن هے MQMکا دو دن پہلے حمایت اور جلسے میں شرکت کس کے اشارے پر کس بات کی غمازی کرتی هے جلسے کی غیرمعمولی سیکورٹی کس کے اشارے پر اور کیوں پنڈی سے جوان کس کےحکم پرلاہور گئے عوام سب سمجھتےهیں کۂ کس کی ڈورئ کهاں سےاورکون هلۂ رہا هے سٹیک هولڈر وه هیں جنگی نمائندگی اسمبلی میں هے دیگر سٹیک هولڈر کون اورکیوں الٹی میٹم کی سیاست کی کوئی پحیثیت نہیں اسلام اور مزہب کی سیاست سےاب عوام باحبر هیں اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر تبدیلی کی آواز کوئی نیا تجربہ نہیں ایوب سے لیکر مشرف تک سب کا یہی طریقۂ رہاقادری کو ملک کا خیال اب کیوں آیا کنیڈا میں رهنے والا یۂ صاحب اچانک کیوں نمودارهویے
ahmed
25 دسمبر, 2012 12:06
ye shakhs khabil e bharoosa nahin hia..agar waqa i tabdeeli chahte tu siasat danoon se mil kar nizam mein bahtari ki koshish bhi ki jasakti thi..awaam ki aksariat jahil hai, iski surat ko dekh kar vote de denge..
Israr Muhammad
25 دسمبر, 2012 17:49
آخرچھ سال کنیڈا میںملک کی خدمت کےبعد قادری صاحب آگئے اور تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اور لاکھوں کے مجمعۂ کے سامنے اپنا پیغام عوام کو سنایا اور ساتھ هی الٹی میٹم بھی اب یہاں یۂ سوال اٹھتا هےکۂ حکومت کااس پر کیاردعمل هے کیا ملک میں تبدیلی اسطرح آسکتی هے کیا ایسا ممکن هے الیکشن سے عین پہلے اسطرح کی مطالبات کا کوئی جواز بنتا هے اگر کسی کو اس نظام میں کوئی خامی نظر آرہی هے تو کیا اس کیلئے انتخابات صحیح راستہ نہیں هے اس طرح کے کرایه کے جلسوں سےتبدیلی ممکن هےایم کیوایم پی ٹی آئی کی اچانک حمایت اور جلسے میں شرکت کس کے اشارے پر کس بات کی غمازی کرتی هےجلسےکی غیرمعمولی سیکورٹی کس کے اشارے پر اور کیوں پنڈی سے جوان کس کےحکم پرلاہور گئے عوام سب سمجھتےهیں کۂ کس کی ڈورئ کهاں سےاورکون هلۂ رہا هے سٹیک هولڈر وه هیں جنگی نمائندگی اسمبلی میں هے دیگر سٹیک هولڈر کون اورکس لئے الٹی میٹم کی سیاست کی کوئی پحیثیت نہیں اسلام اور مزہب کی سیاست سےاب عوام بے خبر نہیںاسٹیبلشمنٹ کےکندھوں پر بیٹھ کر تبدیلی کی آواز کوئی نئی بات نہیں ایوب سے لیکر مشرف تک سبکا یہی طریقۂ رہاهےکو ملک کا خیال آج کیوںآیاکنیڈا میں رهنے والا یۂ صاحب اچانک کیوں نمودارهویے
عزیز الحق بادات
26 دسمبر, 2012 02:44
اللہ سے دعا ہے کہ اس ملک میں کویٔ مخلص سربراہ آۓ جو اس ملک کی تقدیر کو بدلے۔ آمین !
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟