20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نیا گورنر پی پی پی کے لیے کتنا فائدہ مند؟

makhdoom-mehmood-online-670
یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود اور علی موسی گیلانی اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کر رہے ہیں۔—آن لائن فوٹو

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں پارٹی امور 'نو وارد' میاں منظور وٹو کے حوالے کرنے کے بعد اب صوبے کی گورنر شپ ایک اور غیر وابستہ شخصیت کو سونپ دی ہے۔

وٹو گزشتہ انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مئی دوہزار آٹھ میں حکمراں جماعت کا حصہ بن گئے تھے۔

پی پی پی کے اندر اور باہر سیاسی حلقے مخدوم احمد محمود کی بطور گورنر نامزدگی پرحیران ہیں۔

صوبے کے آئینی سربراہ منتخب ہونے سے چند دن پہلے تک مخدوم محمود پنجاب کے رکن اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدرتھے۔

پی پی پی کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ مخدوم محمود کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اصرار پر منتخب کیا گیا۔

تاہم یہ ذرائع حتمی طور پر بتانے سے قاصر ہیں کہ اس اقدام سے پارٹی کو آئندہ عام انتخابات میں کتنا فائدہ ہو سکے گا۔

پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب میں گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ دسمبر کے آغاز میں صدر زرداری کے ملتان دورے کے دوران ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے اسی دورے میں ایک اجلاس کے دوران جنوبی پنجاب کی سطح پر اپنی انتخابی حکمت علمی کو حتمی شکل بھی دی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ گیلانی جنوبی پنجاب میں پی پی پی کی انتخابی مہم کے سربراہ ہوں گے۔

اس فیصلے کے بعد ہی گیلانی نے صوبے میں گورنر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے صدر زرداری نے منظور کر لیا۔

پی پی پی رہنما نے گورنر کی تبدیلی کو خالصتاً ایک سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر عمل درآمد سے حکمراں جماعت جنوبی پنجاب میں اپنے قدم مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

'صدر زرداری نے گیلانی کی تجویز اس لیے قبول کی کیونکہ مخدوم محمود کا خاندان سرائیکی صوبے کا مضبوط حامی ہے اور پارٹی توقع کر رہی ہے کہ اس فیصلے سے سرائیکی قوم پرستی ایک مرتبہ پھر اُبھرے گی جس سے انتخابات میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے'۔

واضع رہے کہ نئے گورنر کے والد مخدوم حسن محمود بہاولپور  ریاست کے آخری وزیر اعلٰی تھے۔

قومی اسمبلی میں سرائیکی علاقے کی پچاس میں سے تیس سے زائد نشستیں پی پی پی اور اس کے اتحادی ق لیگ کے پاس موجود ہیں۔

پی پی پی کے رہنما نے ڈان کو مزید بتایا کہ اپنےعزیز کو کو گورنر منتخب کرانے کے بعد گیلانی اب صوبے میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے گورنر ہاؤس کو بطورکیمپ استعمال کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جون میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد گیلانی صاحب سیاسی طور پر کمزور پڑ چکے تھے تاہم حالیہ فیصلے سے ان کو زبردست تقویت ملی ہے۔

ایک طرف جہاں کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے پی پی پی کو جنوبی پنجاب میں حمایت حاصل ہو گی، وہیں بعض کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے حکمراں جماعت کی جھنجھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گورنر کے عہدے کے لیے پارٹی سے غیر وابستہ شخصیت کا چناؤ کر کے پی پی پی نے عام انتخابات سے قبل اپنی ہار تسلیم کر لی ہے۔

سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر سیاسی مبصر نے بتیا کہ رحیم یار خان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اپنی پہچان رکھنے والا مخدوم محمود خاندان ماضی میں پی پی پی کے خلاف ہی الیکشن لڑتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ' نوے کے دہائی میں یہ خاندان ن لیگ سے وابستہ رہا لیکن بعد میں مخدوم محمود نے ق لیگ سے ہاتھ ملا لیے۔ 1999 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کے بعد مخدوم محمود مشرف دور کی کابینہ کا حصہ بن گئے'۔

' وہ 2002 میں گجرات کے چوہدریوں کی آشیر باد سے ضلع رحیم یار خان کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں اسی علاقے سے چوہدری پرویز الہٰی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد صوبے کے وزیر اعلٰی بنے'۔

ان سیاسی مبصر کا ماننا ہے کہ مخدوم محمود رحیم یار خان میں قومی اسمبلی کی دو یا تین اور صوبائی اسمبلی کی پانچ سے چھ نشستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن وہ باقی سرائیکی بیلٹ میں کوئی فرق نہیں ڈال سکتے۔

' وسطی اور شمالی پنجاب کے برعکس اس علاقے میں پارٹی سے زیادہ خاندانی سیاست اہمیت رکھتی ہے، لہذا یہاں پر امیداور کی حیثیت سیاسی جماعت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان پر نئے سیاسی اتحاد سامنے آئیں گے جس کے بعد ہی واضع ہو گا کہ مخدوم محمود پی پی پی کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں۔

پی پی پی کی سیاست پر نظر رکھنے والے ایک اور مبصر نے کہا کہ حکمراں جماعت میں ایک بھی ایسا رہنما موجود نہیں جو اکیلے ہی پورے پنجاب میں پارٹی کی الیکشن مہم چلا سکے، اسی لیے صدر زرداری نے وسطی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جانے والے وٹو کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اِسی طرح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور کاہرہ خاندان شمالی پنجاب میں پارٹی کی انتخابی مہم کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے۔

اس حصے سے مزید

'طالبان کے مطالبات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں'

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔

وزیر اعظم کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

ڈیرہ غازی خان: ٹریفک حادثے میں 14 ہلاکتیں

یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوٹ چٹھہ میں اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔