17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایم کیو ایم کی درخواستیں

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئرڈاکٹر فاروق ستار۔ – فائل فوٹو
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئرڈاکٹر فاروق ستار۔ – فائل فوٹو

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف دو درخواستیں دائر کردی ہیں۔

پیر کو ایم کیو ایم کے سینیٹر ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں غیرآئینی اور غیرقانونی ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مردم شماری کے بغیر ازسرنو حلقہ بندیاں کرانا غیرآئینی اور غیر قانونی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں کرانا ہی ہیں تو صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں کرائی جائیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق، وہ سمجھتے ہیں کہ مردم شماری کے بغیر کراچی میں حلقہ بندیاں کراکر ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 26 نومبر کو کراچی میں ازسر نو حلقہ بندیاں کروانے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے سے متعلق اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے متحدہ کے قائد الطاف حسین نے 29 نومبر کو اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے ایک جج  کے ریمارکس کو سراسر غیرآئینی، غیر جمہوری اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی جماعت کو مینڈیٹ دینا عدالت کا نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہے۔

اس پر چودہ دسمبر کو سپریم کورٹ نے متحدہ کے قائد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات جنوری کو طلب کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے ججوں سے متعلق خطاب توہین اور دھمکی آمیز تھا۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟