02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

جمہوری تسلسل میں ہی ملک کی بقاء ہے، کائرہ

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات ، قمر زمان کائرہ ۔ اے پی پی تصویر
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات ، قمر زمان کائرہ ۔ اے پی پی تصویر

چشتیاں: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے پیر کے روز کہا ہےکہ جمہوری نظام کے تسلسل میں ہی پاکستان کی بقا ہےاور ہر شخص کو یہ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

رینالہ خورد پریس کونسل اور چشتیاں بار ایسوسی ایشن کے نئے اراکین کی تقریبِ حلف برداری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے نگراں سیٹ اپ کا انتخاب صرف سیاسی قوتیں ہی کریں گی۔

کائرہ نے تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کینیڈا سے واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے خیالات کا احترام کرے گی اگر وہ  آئین کے تحت ہوں اورجمہوریت اور اس سے وابستہ اداروں کو مضبوط کرتےہوں۔

' علامہ طاہرالقادری کو آئین کے تحت عوامی ووٹ سے تائید حاصل کرنی چاہئے اور کسی کو بھی آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ' کائرہ نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو خوش آمدید کہتی ہے جو ملک میں آئین کے تحت کام کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے لیکن کسی کو بھی نظام ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ بہت قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ قوم انتخابات کی تیاری کررہی ہے اور چند لوگ اس موقع پر کنفیوژن پھیلانا چاہتے ہیں۔

کائرہ نے کہا کہ پی ایم ایل نون ہمیشہ الیکشن میں چالیں چلتی ہیں اور اب وہ الیکشن آزادانہ اور شفاف کرانے کے حکومتی عزم سے خوفزدہ ہے۔

صدر کے دو عہدوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کو یہ سمجھنا چاہئے کہ صدر زرداری کا پی پی پی کے شریک چیئرمین کا عہدہ اعزازی ہے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔