02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایک نئے بھٹو کی آمد

pakistan-bilawal-bhutto-290

پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو اور صدر زرداری کے بیٹے، بلاول بھٹو زرداری نے 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں اپنی والدہ کی پانچویں برسی پر جمع لوگوں سے اپنے پہلے خطاب  کے ساتھ ہی اپنے سیاسی کیریئرکا بھی آغاز کیا ۔

' بھٹو ایک جذبہ ہے، ایک محبت ہے،' انہوں نے کہا۔ ' تم کتنے بھٹو ماروگے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ '

'اس ملک میں دو طرح کی قوتیں ہیں: ایک آمریت کا راستہ ہے اور دوسری جانب لوگوں کی قوت ہے۔ ایک طرف ہم دہشتگردوں کے سامنے ایک دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور دوسری جانب وہ ہیں جو ان کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں،' بلاول نے اپنی تقریر میں کہا۔

ان کی عمر ابھی 24 برس ہے  اور کیا آپ سمجتھے ہیں کہ وہ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوسکیں گے۔

کیا ملک کے درپیش اہم ترین چیلنجز، خصوصاً جاری دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں وہ ثابت قدم رہ پائیں گے؟

اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کیا بلاول سیاسی اعتبار سے اتنے پختہ ہیں کہ وہ پاکستانی سیاست کے اتار چڑھاؤ اور اس کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں؟

پاکستانی سیاست سے جُڑے اس اہم سوال پر ڈان ڈاٹ کام کو آپ کے خیالات اور تبصرے کا انتظار رہے گا۔

اس حصے سے مزید

الیکشن کمیشن اراکین اسمبلی کو معطل کرنے کے اختیارات کا خواہاں

کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت 60 دنوں تک معطل کرنے کی تجویز دی ہے۔

اسلامک اسٹیٹ اسلام کے خلاف ہے: پاکستان علماء کونسل

کونسل نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کو فروغ دینے والی آئی ایس جیسی انتہاء پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار نہ کریں۔

'وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے'

لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (13)

zaib
27 دسمبر, 2012 21:16
Blawl is not able to solve problems of pakistani people.
شانزے
27 دسمبر, 2012 21:44
پہلی بات کہ یہ بھٹو نہیں زرداری ھے محض عوام کو بےوقوف بنانے کی خاطربلاول کو بھٹو بنانے کی بھونڈی حرکت کی گی دوسری بات یہ ھے کہ یہ ملک کسی کے باپ دادا کی جاگیر نہیں کہ ایک جاے تو خاندان میں سے کوئ دوسرا ھمارے اوپر حکمرانی کرنے آ جاے آخر میں "تم کتنے بھوکے مارو گے ھر گھر سے بھوکا نکلے گا"
شانزے
27 دسمبر, 2012 22:07
بلاول پاکستان میں رھا ھی نہیں اورنہ ہی اسے پاکستان کے زمینی حقایق کا علم ھے اس کا سیاسی علم محض سنی سنائ یا جو اس کو چمچوں نے بتایا وہاں تک محدود ھے تو اس نے مسائل کا حل خاک کرنا ھے!!! اور کچھ نہیں بلکہ اس ملک کو اپنی جاگیرسمجھنےوالے خاندانوں کا محض ایک نمائیندا ھے بلاول کی مثال اس فقیر جیسی ھے جس نے حلوھ کھانا ھے اور پھر اپنی اصل منزل انگلینڈ یا دوبئی کو لوٹ جانا ھے یہ اصلی بھٹو نہیں بلکہ "لُٹو تے پُھٹو" یعنی "بلاول پُھٹو" ھے 
Shahid Naseem
28 دسمبر, 2012 07:30
Mr. Bilawal can' t bring any positive change in Pakistan he will do same as his party done in previous five year. Every voter of PPP and every Person who dos'nt vote is responsible for this situation.
Israr Muhammad
29 دسمبر, 2012 19:21
یۂ فطری بات هے کۂ زرداری صاحب بحیثیت ایک باپ کے بہت خوش هونگے لیکن همارے ملک میں موروثی سیاست میں ایک اور اضافہ هوا چوک همارے ملک کی سیاست کا ایک منفی اور تاریک پہلو هے میری زاتی رائے اس کے لئے پارٹی لیول پر لازمی قانون سازی کی ضرورت هے
RABBIA
29 دسمبر, 2012 20:12
As per my opinion we should not discourage him from being a part of Pakistan's politics.All should use there vote right properly without any personal bias & liking,disliking.Youth,the educated lot,the future of Pakistan,should be given confidence to take initiative for true well being of our motherland Pakistan but landlordism & beaurocracy should be given such a jerk so that it die it's own death.
Abdul Razaque Chhachhar
30 دسمبر, 2012 10:53
Bilawal Bhuutto Zardari is new face in politics there is no doubt that his mother was great leader of Pakistan but his speech was showing that he is using same words which his father, Mr Asif Ali Zardari, was used in his many gatherings. Bilawal Bhuttoo did not higghlighted the basic problems of the country such as energy crisis, unemployment, terrorism and poverty. In his speech there was no roadmap and solutions of problems of country. Mr Bhuttoo did not mention about his mother,s killers names still workers are asking you that who are the killers and why they are still free in your own government. Mr Bilawal will face manay challanges in upcoming election how and on which manifesto he will satisfy voters and will get vote. In the perspective of the Sindh most people are very angry due to passed local ordinaces against the wills of people of sindh.
حسین عبد اللہ
31 دسمبر, 2012 01:39
باپ ملک کو تباہ کرچکا ہے پانچ سال میں کرپشن ،مہنگائی دہشت گردی بدامنی عوامی خود اعتمادی کا فقدان بیرونی مداخلت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب اپنی آخری حدوں میں پہنچ گئیں ہیں بس ہوگا یہ کہ باپ نمبری بیٹا دس نمبری
راجہ اکرام
31 دسمبر, 2012 05:06
بھٹو نے ایک دور گزارا اور نئی سیاست کی طرح ڈالی جسے کسی نہ کسی حد تک بے نظیر نے سنبھالا دیا۔ مگر میری سمجھ کے مطابق وہ آخری سہارا تھی، اب بھٹو خاندان میں ایسا کوئی وارث نہیں جو اس میراث کو بانداز احسن آگے لے جا سکے۔ اور یوں بھی موجودہ پی پی پی کا وقت صرف اس حکومت اور صدارت کی مدت تک ہے اور اس کے بعد یہ آپس میں لڑیں گے اور ہو سکتا ہے کہ نصف درجن کے لگ بھگ دھڑے بن جائیں۔ موجودہ حکومتی اہلکاروں میں سے بیشتر وہ فصلی بٹیرے ہیں جو حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بدیس سدھار جائیں گے بلاول کو جو کرنا ہے از سر نو کرنا ہے اور اس کے لیے اسے موجودہ زرداری زدہ پی پی پی کو نشاۃ ثانیہ کے مراحل سے گزارنا ہو گا جو کہ تا حال ممکن نظر نہیں آ رہا
راجہ اکرام
31 دسمبر, 2012 05:08
جاگیرداری سے خطرہ ہے تو بلاول کون سا مڈل کلاس شہری ہے
khalid
31 دسمبر, 2012 09:21
First thing Bilawal is not a member of Bhutto family, Islamically and legally. Second thing what is his status, a boy of 25 years age who spent most of his time in London in enjoyment.
Tanveer Hussain
31 دسمبر, 2012 11:49
Bilawal is not capable for all these thing and to lead the Pakistan, he don't know the basic problems of the conman peoples of the Pakistan, During Last 60/65 years every government and administration could not develop the Islamabad (Capital of Pakistan), how can they develop the whole Pakistan, every Government authorized person and politician has his own interests..... ye log ye nhe jantay k, aik Din Allah k, Samnay to Jawab Dena Ho Ga........................................
tanvir
18 جنوری, 2013 13:46
what qualification he has? Nothing but that he is the son of BN bhuto. And thats for sure he is here to loot the rest of wealth luckily over looked by his talented and cunning dad.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟