20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نئی دہلی: زیادتی کا شکار لڑکی دم توڑگئی

لڑکی کی لاش لے جاتے ہوئے۔ - اے ایف پی فوٹو
ایمبولنس کے سمانے لوگ کھڑے ہیں۔ - اے ایف پی فوٹو

چلتی بس میں اجتمائی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والی ہندوستانی طالبہ ہفتہ کی صبح سنگا پور کے ایک ہسپتال میں علاج  کے دوران دم توڑ گئی۔

سنگاپور کے ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ تئیس سالہ لڑکی کا صبح پونے پانچ بجے اہل خانہ اور ہندوستانی سفارت خانے کے افسران کی موجودگی میں انتقال ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کا اسٹاف، نرسیں، ڈاکٹر اس مشکل گھڑی میں لڑکی کے اہل خانہ کے دکھ میں شریک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کے آٹھ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں لیکن ان کی حالت پچھلے دو دنوں میں مزید بگڑ گئی تھی۔

''جسمانی اور دماغی چوٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے اعضاء ناکارہ ہو گئے تھے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق لڑکی کے اہل خانہ نے انڈین ہائی کمیشنر سے لاش کو ملک واپس بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

ان کی لاش آج کسی وقت نئی دہلی پہنچائی جائے گی۔ اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہ صرف سیکورٹی سخت کردی گئی ہے بلکہ عوام سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی جارہی ہے۔

ہندوستان میں نوجوان طالبہ کی ہلاکت کو زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد نے بڑا سانحہ قراردیا ہے ۔

ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے نئی دہلی کے تمام میٹرو اسٹیشن بند جبکہ شہر میں سینکڑوں پولیس اہلکار اہم مقامات پر تعینات کردیئے گئے ہیں۔

عورتوں کے حقوق کی مختلف تنظیموں نے آج مظاہروں کا اعلان بھی کیا ہے۔

ادھر، وزیر اعظم من موہن سنگھ نے لڑکی کے انتقال کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر  کہا کہ 'طالبہ چاہے اپنی زندگی کی جنگ ہار گئی ہو لیکن ہم ان کی موت کو رائیگاں نہیں جانے دیں'۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں ابتدائی علاج کے بعد لڑکی کو ایئر بس کے ذریعے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مزکورہ لڑکی پرنئی دہلی میں چلتی بس میں اجتماعی زیادتی اور لوہے کی سلاخوں سے تشدد کے بعد انہیں اور ان کے دوست کو بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

واقعہ پر شدید احتجاج کے بعد ہندوستانی حکومت نے تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن قائم کرنے اور وزیراعظم نے ذمہ داروں کوجلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔

اس واقعہ کر لے کر ،ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور ہر طبقے نے اس کی کھل کر مذمت کی۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ تاہم اس واقعے میں ملوث چھ ملزمان کو پولیس گرفتار کرچکی ہے۔

اس حصے سے مزید

ہندوستانی انتخابات: پانچویں مرحلے میں پولنگ کا آغاز

اس اہم مرحلے میں حکمران جماعت کانگریس اور اپوزیشن جماعت جی جے پی کئی ریاستوں میں مدِ مقابل ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں میں پہل نہ کرنے کی پالیسی برقرار رکھیں گے ، مودی

بے جی پی نے پہلے کہا تھا کہ وہ حکومت بنانے کے بعد انڈیا کی ایٹمی پالیسی پر نظر ثانی اور تبدیلیاں کرے گی۔

ہندوستان میں بس حادثہ، چھ افراد ہلاک

حکام کے مطابق یہ حادثہ بس میں آگ لگنے سے پیش آیا جس میں کم ازکم چھ افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

imran yusufzai
29 دسمبر, 2012 04:13
indeed a sad end. our deepest sympathies go out to the the family and friends of the victim. However, my support to the people of the city of new dehli who have really shown that they car and cannot tolerate such a brutal act again in their city. this is the true sign of a united society. we in lahore also have to wake up for humanity and be counted.
Fazi
31 دسمبر, 2012 00:14
Agreed.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔