22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لیوی اہلکاروں کی رہائی: عمائدین کی مدد طلب

۔ — اے پی فائل فوٹو
۔ — اے پی فائل فوٹو

پشاور: پولیٹیکل انتظامیہ نے جمعرات کو طالبان کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بتیس لیوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پشاور فرنٹیئر ریجن کے قبائلی عمائدین سے مدد طلب کر لی ہے۔

پاکستان تحریک طالبان کے درہ آدم خیل گروہ نے گزشتہ روز کوئی حسن خیل اور جینا کور کے علاقے کی تین سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے میں دو سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تئیس کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائب پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر خان نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے کو اٹھارہ عمائدین پر مشتمل جرگے کے سامنے رکھا گیا ہے۔

'ہم نے ان سرداروں کو کہا ہے کہ نیم قبائلی علاقے کے عمائدین ہونے کے ناطے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مغویوں کی رہائی میں حکومت کی مدد کرنی چاہیے'۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے وعدہ کیا ہے وہ مغویوں کی رہائی میں مدد کریں گے، کیونکہ یہ مغوی ان کے اپنے ہیں اور وہ اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقہ مکین خوفزدہ ہیں اور انہیں مغویوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ لوگ طالبان سے ڈرنے کی وجہ سے ان کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن ان کے لیے  انتظامیہ کے ساتھ تعاون سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اس کے ارکان کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اپنے رشتہ داروں کی جانیں ضائع ہونے کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

ایک اور مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے طالبان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ پشاور میں حملے کرنے کے لیے ان کا علاقہ استعمال نہ کریں لیکن انہوں نے انتقاماً یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ طالبان نے متنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں میں کئی لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا تھا۔

'انہوں نے علاقے کے عمائدین کی جانب سے امن لشکر بنانے پر ایک نجی اسکول وین پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں متعدد بچے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے'۔

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے طالبان کے خلاف مزاحمت ختم کر دی ہے۔

اس نے انکشاف کیا کہ طالبان نے مقامی لوگوں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرلیے ہیں جو ان کےلیے مخبری کرتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

ضرب عضب: فضائی کارروائی میں مزید 23 'دہشت گرد' ہلاک

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم سے ایک طویل ملاقات بھی کی جس میں ضرب عضب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہری پور میں ٹریفک حادثہ، نو افراد ہلاک

ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس سال 149 متاثرہ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جب تک ایک وائرس بھی دنیا میں کہیں باقی ہے، وہ بچوں کو متاثر کرسکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-