24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لیوی اہلکاروں کی رہائی: عمائدین کی مدد طلب

۔ — اے پی فائل فوٹو
۔ — اے پی فائل فوٹو

پشاور: پولیٹیکل انتظامیہ نے جمعرات کو طالبان کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بتیس لیوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پشاور فرنٹیئر ریجن کے قبائلی عمائدین سے مدد طلب کر لی ہے۔

پاکستان تحریک طالبان کے درہ آدم خیل گروہ نے گزشتہ روز کوئی حسن خیل اور جینا کور کے علاقے کی تین سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے میں دو سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تئیس کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائب پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر خان نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے کو اٹھارہ عمائدین پر مشتمل جرگے کے سامنے رکھا گیا ہے۔

'ہم نے ان سرداروں کو کہا ہے کہ نیم قبائلی علاقے کے عمائدین ہونے کے ناطے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مغویوں کی رہائی میں حکومت کی مدد کرنی چاہیے'۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے وعدہ کیا ہے وہ مغویوں کی رہائی میں مدد کریں گے، کیونکہ یہ مغوی ان کے اپنے ہیں اور وہ اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقہ مکین خوفزدہ ہیں اور انہیں مغویوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ لوگ طالبان سے ڈرنے کی وجہ سے ان کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن ان کے لیے  انتظامیہ کے ساتھ تعاون سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اس کے ارکان کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اپنے رشتہ داروں کی جانیں ضائع ہونے کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

ایک اور مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے طالبان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ پشاور میں حملے کرنے کے لیے ان کا علاقہ استعمال نہ کریں لیکن انہوں نے انتقاماً یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ طالبان نے متنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں میں کئی لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا تھا۔

'انہوں نے علاقے کے عمائدین کی جانب سے امن لشکر بنانے پر ایک نجی اسکول وین پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں متعدد بچے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے'۔

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے طالبان کے خلاف مزاحمت ختم کر دی ہے۔

اس نے انکشاف کیا کہ طالبان نے مقامی لوگوں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرلیے ہیں جو ان کےلیے مخبری کرتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پشاور: پولیس پر دو مختلف حملے، اہلکار ہلاک، ڈی ایس پی زخمی

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سات پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دس زخمی ہوچکے ہیں۔

پشاور: ایمرٹس اور اتحاد ایئرویز کی پشاور سروس بحال

معطلی کے بعد ایمرٹس ایئرلائنز 24 جولائی جبکہ اتحاد ایئرلائنز یکم اگست سے پشاورکے لیے فلائٹ سروس دوبارہ شروع کرے گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔