24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

لیوی اہلکاروں کی رہائی: عمائدین کی مدد طلب

۔ — اے پی فائل فوٹو
۔ — اے پی فائل فوٹو

پشاور: پولیٹیکل انتظامیہ نے جمعرات کو طالبان کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بتیس لیوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پشاور فرنٹیئر ریجن کے قبائلی عمائدین سے مدد طلب کر لی ہے۔

پاکستان تحریک طالبان کے درہ آدم خیل گروہ نے گزشتہ روز کوئی حسن خیل اور جینا کور کے علاقے کی تین سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے میں دو سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تئیس کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائب پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر خان نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے کو اٹھارہ عمائدین پر مشتمل جرگے کے سامنے رکھا گیا ہے۔

'ہم نے ان سرداروں کو کہا ہے کہ نیم قبائلی علاقے کے عمائدین ہونے کے ناطے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مغویوں کی رہائی میں حکومت کی مدد کرنی چاہیے'۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے وعدہ کیا ہے وہ مغویوں کی رہائی میں مدد کریں گے، کیونکہ یہ مغوی ان کے اپنے ہیں اور وہ اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقہ مکین خوفزدہ ہیں اور انہیں مغویوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ لوگ طالبان سے ڈرنے کی وجہ سے ان کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن ان کے لیے  انتظامیہ کے ساتھ تعاون سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اس کے ارکان کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اپنے رشتہ داروں کی جانیں ضائع ہونے کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

ایک اور مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے طالبان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ پشاور میں حملے کرنے کے لیے ان کا علاقہ استعمال نہ کریں لیکن انہوں نے انتقاماً یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ طالبان نے متنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں میں کئی لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا تھا۔

'انہوں نے علاقے کے عمائدین کی جانب سے امن لشکر بنانے پر ایک نجی اسکول وین پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں متعدد بچے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے'۔

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے طالبان کے خلاف مزاحمت ختم کر دی ہے۔

اس نے انکشاف کیا کہ طالبان نے مقامی لوگوں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرلیے ہیں جو ان کےلیے مخبری کرتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

پشاور ہسپتال سے نو مبینہ جنگجو گرفتار

چھ مبینہ جنگجو اپنے تین زخمی ساتھیوں کو ایک ایمبولینس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لائے،جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

جماعتِ اسلامی کا پشاور میں جرگے کا فیصلہ

جے آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یکم مئی کو ہونے والے اس جرگے میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟