28 اگست, 2014 | 1 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لیوی اہلکاروں کی رہائی: عمائدین کی مدد طلب

۔ — اے پی فائل فوٹو
۔ — اے پی فائل فوٹو

پشاور: پولیٹیکل انتظامیہ نے جمعرات کو طالبان کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بتیس لیوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پشاور فرنٹیئر ریجن کے قبائلی عمائدین سے مدد طلب کر لی ہے۔

پاکستان تحریک طالبان کے درہ آدم خیل گروہ نے گزشتہ روز کوئی حسن خیل اور جینا کور کے علاقے کی تین سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے میں دو سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تئیس کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائب پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر خان نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے کو اٹھارہ عمائدین پر مشتمل جرگے کے سامنے رکھا گیا ہے۔

'ہم نے ان سرداروں کو کہا ہے کہ نیم قبائلی علاقے کے عمائدین ہونے کے ناطے انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مغویوں کی رہائی میں حکومت کی مدد کرنی چاہیے'۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے وعدہ کیا ہے وہ مغویوں کی رہائی میں مدد کریں گے، کیونکہ یہ مغوی ان کے اپنے ہیں اور وہ اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقہ مکین خوفزدہ ہیں اور انہیں مغویوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ لوگ طالبان سے ڈرنے کی وجہ سے ان کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن ان کے لیے  انتظامیہ کے ساتھ تعاون سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اس کے ارکان کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اپنے رشتہ داروں کی جانیں ضائع ہونے کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

ایک اور مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے طالبان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ پشاور میں حملے کرنے کے لیے ان کا علاقہ استعمال نہ کریں لیکن انہوں نے انتقاماً یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ طالبان نے متنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں میں کئی لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا تھا۔

'انہوں نے علاقے کے عمائدین کی جانب سے امن لشکر بنانے پر ایک نجی اسکول وین پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں متعدد بچے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے'۔

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے طالبان کے خلاف مزاحمت ختم کر دی ہے۔

اس نے انکشاف کیا کہ طالبان نے مقامی لوگوں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرلیے ہیں جو ان کےلیے مخبری کرتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس سے جھڑپ میں اہم طالبان کمانڈر ہلاک

دہشت گردوں نے ڈی پی او صادق بلوچ پر حملہ کیا تھا، جوابی کارروائی میں ولید اکبر ہلاک اور اس کا ساتھی زخمی ہوگیا۔

پاکستانی طالبان میں نیا گروپ تشکیل

جماعت الاحرار نامی گروپ کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کی تحریکیں غیر شرعی ہیں۔

بے گھر افراد 'آزادی' اور 'انقلاب' مارچ سے مایوس

عمران خان کو اپنے نام سے ' خان' ہٹا دینا چاہئے کیونکہ وہ پختونوں کی نمائندگی کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

دو کشتیوں کے سوار نواز شریف

نواز شریف کے مطابق اگر ان کو طاقت کے زور پر نکالا گیا تو پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان میں جمہوریت

کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا حکمرانوں کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے؟

بلاگ

آزادی کے سائیڈ افیکٹس

اس قوم کا مزید آزادی کی بات کرنا بہت حیران کن ہے۔ یہ قوم تو آزادی کے سائیڈ افیکٹس کا شکار ہے۔

'آزادی' کے بعد: 'نیا پاکستان' اور 'انقلابی کابینہ'

سب سے زیادہ توجہ میڈیا پر دینی ہوگی اور گندی مچھلیوں سے پاک کرنے کے لئے تمام 'ملک دشمن' چینلز پر فوری پابندی لگانی ہوگی

مووی ریویو: ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز

تباہی و بربادی کے سینز، سپر ہیروز اور ایک حسینہ والے کامیاب ثابت شدہ فارمولے فلم کا حصہ رہے۔

تجزیوں کا بخار

گھر کے تمام افراد کو اتنے گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جتنے کہ تجزیہ کار موجود ہیں۔