22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاک افغان سرحد پر سرگرمیاں بحال

۔۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔۔فائل فوٹو۔

اسلام آباد: افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ڈرائیوروں پر افغان فورسز کے تشدد کے بعد سے بند کی گئی پاک افغان سرحد ہفتے کے روز کھول دی گئی ہے۔

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان میں افغان سفیر محمد عمردادوزئی کو دفتر خارجہ اسلام آباد طلب کیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ افغان سفیر پر واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں پر تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔

 ترجمان کے مطابق، افغان سفیر نے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

 واضح رہے کہ جمعے کو افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ڈرائیوروں پر افغان فورسز کے تشدد کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد بند کر دی تھی۔

اس حصے سے مزید

میجیر جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

میجر رضوان اختر اب تک ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے عہدے پر کام کررہے تھے، وہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔

تحریک طالبان کا سابق ترجمان پاکستان کے حوالے

اکرام اللہ مہمند کو افغان نیشنل آرمی کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے اب پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

افغان حکومتی شراکت کے معاہدے کا پاکستان کی جانب سے خیر مقدم

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس معاہدے پر دستخط کو ایک مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

پاکستان کی "مڈل کلاس" بغاوت

پاکستان کے مڈل کلاس لوگ ہی جمہوریت کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور کچھ کیسز میں تو جمہوریت کی مخالفت بغاوت کی حد تک شدید ہے۔

!میرے پیارے اسلام آباد

میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے آپ کی جانب دو دھرنے بھیجے ہیں، جنہوں نے آپ کا امن و سکون تباہ کر دیا ہے۔

بلاگ

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-

ڈرامہ ریویو: چپ رہو - حساس ترین موضوع پر بہترین پیشکش

زیادتی جیسے واقعات ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں اس حوالے سے یہ ڈرامہ شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

میں باغی ہوں

اس ملک میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہے- کسی کو قانون کا پاس نہیں- تبدیلی آئی تو سب کا احتساب ہوگا-