02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاک افغان سرحد پر سرگرمیاں بحال

۔۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔۔فائل فوٹو۔

اسلام آباد: افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ڈرائیوروں پر افغان فورسز کے تشدد کے بعد سے بند کی گئی پاک افغان سرحد ہفتے کے روز کھول دی گئی ہے۔

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان میں افغان سفیر محمد عمردادوزئی کو دفتر خارجہ اسلام آباد طلب کیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ افغان سفیر پر واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان سے آنے والے پاکستانیوں پر تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔

 ترجمان کے مطابق، افغان سفیر نے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

 واضح رہے کہ جمعے کو افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ڈرائیوروں پر افغان فورسز کے تشدد کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد بند کر دی تھی۔

اس حصے سے مزید

سیاسی معاملات میں فوج کی مدد حاصل نہیں کریں گے، عمران خان

دوسری جانب پاک فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ وجودہ سیاسی بحران کے پیچھے نہیں ہے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی قائدین کو بغاوت کے مقدمے کا سامنا

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی قیادت کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

'مظاہرین جانتے تھے کہ وہ پی ٹی وی میں کیا کررہے ہیں'

یہ لوگ حیرت انگیز طور پر پی ٹی وی کے اہم دفاتر، مرکزی نیوز روم اور نیوز اسٹوڈیوز کے مقامات سے واقف تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔